فلسطین اسرائیل تنازع

بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے فیصلے کو ایک ماہ گذر گیا، اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری

ماہرین کہتے ہیں کہ تل ابیب نے دنیا کو یہ دکھانے کے لیے واضح طور پر ناکافی کام کیا ہے کہ اس کی پالیسیاں اور طرزِ عمل کس طرح عالمی عدالت کے فیصلے پر نیک نیتی سے عمل درآمد کی عکاسی کرتے ہیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) نے اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائی میں تحمل کا مظاہرہ کرنے اور نسل کشی کے مترادف کسی بھی اقدام کو روکنے کا حکم دیا تھا جس کے ایک ماہ بعد بھی محصور فلسطینی انکلیو میں زمینی سطح پر کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔

26 جنوری 2024 کے آئی سی جے کے فیصلے کے باوجود اسرائیل نے غزہ پر اپنے فوجی حملے کو مسلسل تیز کیا ہے کیونکہ اس نے مصر کے ساتھ علاقے کی جنوبی سرحد کے برابر واقع شہر رفح میں فوج بھیجنے کی دھمکی دی ہے جہاں دوسری جگہوں پر جاری لڑائی سے بچنے کے لیے غزہ کے ہزاروں باشندے بھاگ کر چلے گئے ہیں۔

اونروا کے ایک ترجمان کے مطابق غزہ میں خوراک ختم ہو رہی ہے کیونکہ بمباری اور اسرائیلی مظاہرین کے امدادی ٹرکوں کو روک لینے کی وجہ سے امدادی ایجنسیاں علاقے تک نہیں پہنچ پاتیں۔

یو این آر ڈبلیو اے کے ترجمان جوناتھن فولر نے العربیہ کو بتایا کہ کیرن ابو سالم گذرگاہ (کرم شالوم) پر اسرائیلی مظاہرین ٹرکوں کو روکنے کے لیے راستے میں کھڑے ہو گئے جس سے امداد کی روانی انتہائی غیر متوقع ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ کراسنگ کو 8 سے 10 فروری اور دوبارہ 15 سے 17 فروری تک بند کر دیا گیا تھا۔ فولر کے مطابق اونروا اور اقوامِ متحدہ کے دیگر ادارے "حفاظتی خدشات کی وجہ سے اہم انسانی سامان نہیں اٹھا سکے ہیں جس میں لوٹ مار یا مایوس اور بھوکے لوگوں کا قافلوں پر حملہ بھی شامل ہے جو خوراک کی امداد کا بعض اوقات دنوں تک انتظار کرتے ہیں۔

غزہ کے مایوس باشندے بوسیدہ مکئی سے بنے جانوروں کے چارے حتیٰ کہ پتے بھی کھانے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ پناہ گزین کیمپوں میں جو کچھ بھی تھوڑا سا کھانا دستیاب ہو تو بچے پلاسٹک کے ڈبے اور کھانا پکانے کے خستہ حال برتن آگے بڑھا دیتے ہیں۔

13 فروری 2024 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے رفح میں بچوں کے ساتھ فلسطینی ایک خیراتی باورچی خانے سے پکا ہوا کھانا ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)
13 فروری 2024 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے رفح میں بچوں کے ساتھ فلسطینی ایک خیراتی باورچی خانے سے پکا ہوا کھانا ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)

بین الاقوامی برادری کا خیال تھا کہ جنوری میں عالمی عدالت کے فیصلے سے غزہ پر اسرائیل کے فوجی حملے کم ہو جائیں گے۔ تاہم ایک ماہ گذر جانے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا جو غزہ کی پٹی پر بھوک اور فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے جس نے مزید وحشیانہ شکل اختیار کر لی ہے اور اس میں فوری طور پر کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

کیا اسرائیل آئی سی جے کے فیصلے کی خلاف ورزی کر رہا ہے؟

آئی سی جے کے ایک سابق قانونی افسر مائیکل بیکر کے مطابق غزہ سے آنے والی روزانہ کی اطلاعات کی بنیاد پر کسی اعتماد کے ساتھ یہ بتانا مشکل ہے کہ اسرائیل نے درحقیقت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہوں کہ اس کی افواج ایسے طرزِ عمل میں مصروف نہ ہوں جسے عدالت نسل کشی کے طور پر بیان کر سکتی ہے۔"

بیکر نے العربیہ کو بتایا، "عدالت کے حکم نے اسرائیل پر ایک واضح ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ غزہ میں انسانی امداد کی مؤثر ترسیل میں سہولت فراہم کرے۔ تاہم اقوامِ متحدہ کے حکام اور دیگر ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر جو ایک مسلسل بگڑتی ہوئی انسانی صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور ان میں کچھ ایسی رپورٹس بھی شامل ہیں کہ اسرائیلی حکام نے امدادی سامان کی ترسیل کو فعال طور پر روک دیا ہے، ایسا نہیں لگتا کہ اسرائیل نے عدالت کے حکم پر اس حصے کی تعمیل کے لیے کافی اقدامات کیے ہیں۔"

اسرائیل اس صورتِ حال کو بہت مختلف انداز میں دیکھ اور یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ اس کا طرزِ عمل آئی سی جے کے فیصلے کی حدود میں رہتا ہے لیکن اگر ایسا ہے تو انہوں نے کہا، اس نے عدالت کو دکھانے کے لیے "ناکافی کام" کیا ہے جیسا کہ یہ جنوبی افریقہ کی طرف سے لائے گئے پورے کیس کو دیکھتا ہے جس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

بیکر نے کہا، "اسرائیل یہ بھی محسوس کر سکتا ہے کہ اس نے 26 جنوری 2024 سے صورتِ حال کی خرابی کو کم کرنے کے لیے مثبت اقدامات کیے ہیں اور حماس کی جانب سے استعمال کردہ غیر قانونی حربوں کی وجہ سے اسے ایک ناممکن کام کا سامنا ہے لیکن اگر ایسا ہے تو اسرائیل نے دنیا کو دکھانے کے لیے واضح طور پر ایک ناکافی کام کیا ہے کہ کس طرح اس کی پالیسیاں اور طرزِ عمل عدالت کے فیصلے پر نیک نیتی سے عمل درآمد کی عکاسی کرتے ہیں۔"

ساحلی شہر اشدود میں 1 فروری 2024 کو اسرائیل کے دائیں بازو کے کارکن اشدود بندرگاہ سے باہر نکلنے والے ٹرکوں کو روکنے کے لیے کھڑے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کے لیے انسانی امداد لے جا رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
ساحلی شہر اشدود میں 1 فروری 2024 کو اسرائیل کے دائیں بازو کے کارکن اشدود بندرگاہ سے باہر نکلنے والے ٹرکوں کو روکنے کے لیے کھڑے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کے لیے انسانی امداد لے جا رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

فولر کے مطابق غزہ کی پٹی میں لوگوں کو سامان کی فراہمی "انتہائی مشکل" ہے جنہوں نے نشاندہی کی کہ آخری بار اونروا 23 جنوری 2024 کو شمال میں خوراک پہنچانے میں کامیاب ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مصر سے رفح کراسنگ وقفے وقفے سے بند ہوتی رہی ہے اور جن دنوں بارڈر کھلا تھا ان دنوں سپلائی کی روانی کم رہی ہے۔

اسرائیل کے لیے قانونی نتائج

بیکر کے مطابق اگر اسرائیل اس فیصلے کی خلاف ورزی جاری رکھتا ہے تو اس کے اقدامات درحقیقت جنوبی افریقہ کے لیے مزید آسانی پیدا کریں گے کہ جب عدالت میں مقدمہ آگے بڑھے تو وہ ان اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی کے ارادے کے ثبوت کے طور پر استعمال کریں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس مرحلے پر اسرائیل کو قلیل مدتی اثرات کا سامنا ہے جو زیادہ تر "قانونی دائرے کے بجائے سیاسی دائرے" میں ہیں۔ اور مزید کہا کہ غزہ کی صورتِ حال مزید خراب ہونے پر اسرائیل کے اتحادیوں بشمول امریکا کو "زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا ہو گا کہ وہ جنگ ختم کرنے کی غرض سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔"

امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی انتظامیہ کو غزہ میں جنگ بندی کی حمایت کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے جبکہ امریکا کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک اور قرارداد کو ویٹو کرنے کے بعد تازہ تنقید بڑھ رہی ہے جس میں اسرائیل سے جنگ بندی پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

کچھ معاملات میں قانونی چارہ جوئی کی گئی ہے جس کا مقصد ہے کہ عدالت کے احکامات اور بین الاقوامی قانون سے انحراف کے نتیجے میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت یا منتقلی روکی جائے۔

جنوری میں آئی سی جے کے اس فیصلے کے بعد متعدد ممالک نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات موقوف کر دی جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نسل کشی کا ارتکاب کر سکتا ہے جن میں اٹلی، نیدرلینڈز، اسپین، جاپان کے اتوچو ہتھیار بنانے والے شامل ہیں اور بیلجیم کے والون علاقے کی مقامی حکومت نے اعلان کیا کہ اس نے اسرائیل کو اسلحہ برآمد کرنے کا لائسنس معطل کر دیا تھا۔

بیکر نے مزید کہا، "جتنا زیادہ اسرائیل کا طرزِ عمل عدالت کے حکم کے خلاف جاتا ہے یا بصورتِ دیگر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے، اس قسم کے مقدمات کی کامیابی کے اتنے ہی زیادہ امکانات ہوں گے۔"

بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کے اتحادیوں کے قانونی فرائض

بین الاقوامی قانون اور جنیوا کنونشن کے مطابق ہر ملک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نسل کشی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ رکھنے والوں کو روکنے کے لیے جو کچھ کر سکتا ہے، کرے۔

بیکر نے کہا، ایک سابقہ مقدمے میں آئی سی جے نے وضاحت کی تھی کہ کنونشن کے تحت نسل کشی کو روکنے کے لیے ہر ریاست کا فرض اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اسے ایک سنگین خطرے کے وجود کا علم ہو کہ نسل کشی کا ارتکاب ہو گا۔

بیکر نے العربیہ کو بتایا، "چونکہ عدالت نے اپنے جنوری 2024 کے آرڈر میں پایا کہ نسل کشی کے کنونشن کے تحت جنوبی افریقہ کے دعوے کم از کم قابلِ فہم ہیں اس لیے یہ [نسل کشی] کو روکنے کے فرض کو فعال کرنے کا محرک فراہم کرتا ہے۔"

تاہم انہوں نے مزید کہا، نسل کشی کو روکنے کے لیے اس فرض کا دائرہ کار "ریاست در ریاست مختلف ہو گا" کیونکہ یہ ہر ملک کی صلاحیت پر منحصر ہے کہ وہ "قانونی اقدامات کے ذریعے بامعنی طریقے سے اسرائیل پر اثر انداز ہو۔"

قانونی ماہرین کے مطابق اسرائیل کی حمایت کرنے والے ممالک یعنی اس کے اہم اتحادی، امریکہ، جرمنی اور برطانیہ، نسل کشی کے خطرے اور بڑھتے ہوئے مظاہروں کے بارے میں اطلاعات کے باوجود اسرائیل کو فوجی ساز و سامان اور امداد کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یکم فروری 2024 کو وارن، مشی گن، امریکہ میں امریکی صدر جو بائیڈن کے دورے کے دوران یو اے ڈبلیو یونین ہال کے باہر غزہ میں جنگ بندی کے لیے احتجاجی ریلی۔ (رائٹرز)
یکم فروری 2024 کو وارن، مشی گن، امریکہ میں امریکی صدر جو بائیڈن کے دورے کے دوران یو اے ڈبلیو یونین ہال کے باہر غزہ میں جنگ بندی کے لیے احتجاجی ریلی۔ (رائٹرز)

اس طرح کی کارروائیاں ان ممالک کو غزہ میں ہونے والی نسل کشی میں ملوث قرار دے سکتی ہیں۔ ماہرین نے استدلال کیا ہے کہ امریکہ خاص طور پر اسرائیل پر کافی اثر و رسوخ رکھتا ہے اور اس کے اقدامات اور بے عملی نسل کشی کو روکنے کے فرض کی خلاف ورزی ہے۔

تاہم امریکہ کے پاس نسل کشی کنونشن کے لیے ریزرویشن ہے جسے آئی سی جے نے برقرار رکھا ہے جس میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ واشنگٹن کو کنونشن کے تحت کسی بھی دعوے پر آئی سی جے کے سامنے پیش ہونے کے لیے اپنی رضامندی دینی چاہیے - حالانکہ امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کے مطابق اس طرح کی رضامندی دینے کا امکان نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں