حماس کے لیے ’پی ایل او‘ میں شمولیت کا وقت آگیا ہے: فتح تحریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تحریک فتح نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ حماس فلسطین لبریشن آرگنائزیشن میں شمولیت کے لیے آگے بڑھے۔

فتح نے اتوار کے روز العربیہ/الحدث میں مزید کہا کہ وہ ماسکو کے آئندہ اجلاس کے بارے میں پر امید ہے۔ امید کرتی ہے کہ حماس PLO میں شامل ہو جائے گی۔

" مخلوط حکومت نہیں بنے گی"

تحریک فتح کے ترجمان نے العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویومیں مزید کہا کہ اگلی حکومت کا مشن فلسطینیوں کے معاملات کو منظم کرنا ہوگا۔ فلسطینی گروپوں پر مشتمل مخلوط حکومت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حماس کی PLO میں شمولیت کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔ہماری ترجیح غزہ جنگ روکنا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے جنگ پراصرارکے ساتھ کوئی بھی حکومت اپنے فرائض انجام نہیں دے سکے گی۔

جنگ کو روکنا اولین ترجیح

دوسری جانب تحریک حماس کے ایک باخبر ذریعے نے العربیہ اور الحدث کو واضح کیا کہ "اب ترجیح جنگ کو روکنا، غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کو نکالنا اور لوگوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد ہم ایک قومی متفقہ حکومت کے بارے میں بات کر سکتے ہیں جو جامع انتخابات کے انعقاد تک عبوری دور میں تعمیر نو اور لوگوں کے معاملات کو سنبھالے گی۔

’’ہم نے کوئی بات چیت نہیں کی‘‘

ذرائع نے اس بات کی تردید کی کہ حماس نے فتح کے ساتھ اس معاملے پر بات کی ہے، کیونکہ ابھی تک اس کے ساتھ کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

العربیہ/الحدیث ذرائع نے اتوار کو قبل ازیں اطلاع دی تھی کہ محمد اشتیہ کی سربراہی میں موجودہ حکومت ایک ہفتے کے اندر اپنے استعفیٰ کا اعلان کر دے گی۔

"مجوزہ نمایاں نام "

انہوں نے مزید کہا کہ خصوصی وزراء پر مشتمل صرف "ٹیکنو کریٹس" پر مشتمل ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنوکریٹ حکومت کی قیادت کے لیے فلسطین انویسٹمنٹ فنڈ کے سربراہ محمد مصطفیٰ کا نام تجویز دیا گیا۔

بہت سی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ واشنگٹن ایک نئی فلسطینی اتھارٹی کے قیام کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ امریکہ ایک ایسی اتھارٹی چاہتا ہے جو کرپشن الزامات سے پاک ہو اور غزہ اور غرب اردن کو ایک حکومت کے تحت چلا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں