رفح میں جنگی یلغار کے بعد اسرائیلی فتح محض ہفتوں کی بات ہو گی: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز کہا ہے ' رفح آپریشن کے بعد اسرائیلی فتح محض چند دنوں میں ممکن ہو جائے گی'۔ انہوں نے یہ بات 14 لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کو ۤاپنے اندر سموئے ہوئے غزہ کے انتہائی جنوب میں واقع شہر کے بارے میں کہی ہے۔

دوسری جانب جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے چار ملکوں کے درمیان جاری مذاکرات کا اگلا مرحلہ اب دوحہ میں شروع ہونے جارہا ہے۔ تاہم اسرائیل رفح میں اپنی جنگی یلغار کے منصوبے کو بظاہر روکنے کو تیار نہیں ہے۔

نیتن یاہو نے اس بارے میں کہا ' اگر ہمارا جنگ بندی کے لیے معاہدہ ہو بھی گیا تو اس سے کچھ التوا تو ہو سکتا ہے مگر یہ ہو کر رہے گا۔' مزید کہا ' اگر معاہدہ نہیں ہوتا تو بھی یہ آپریشن تو ہم نے کرنا ہی ہے، یہ ہونا ہی ہے ، کیونکہ مکمل فتح ہمارا ہدف ہے۔ یہ بلا شبہ مہینوں کی دوری کی بات نہیں ہے بلکہ محض ہفتوں کی بات ہے۔ بس دیر ہمارے رفح میں آپریشن کی ہے۔'

واضح رہے اسرائیل اس وقت حماس کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں ہے۔ پیرس کے بعد قطر میں مذاکرات کی نئی میز سجنے والی ہے، تاہم نیتن یاہو ان مذاکرات کے ساتھ ساتھ رفح کے بارے میں اسرائیلیوں کو اعتماد میں لے رہے ہیں۔

یاہو نے کہا ' ہم معاہدے کے لیے کام کر رہے ہیں ، ہم اسے چاہتے ہیں، میں اسے چاہتا ہوں کیونکہ ہم باقی یرغمالیوں کو رہا کرانا چاہتے ہیں۔'

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ' میں آپ کو یہ نہیں بتا سکتا کہ ہمارے پاس یہ ہوگا یا نہیں، لیکن اگر حماس کو اس کے فریب خوردہ دعووں کے باوجود اگر ہم انہیں زمین پر لے آئے تو ہمیں وہ ترقی ملے گی جو ہم سب چاہتے ہیں۔'

ان سے پوچھا گیا کہ ' امریکہ شہری ہلاکتوں میں کمی کا کہہ رہے ہیں۔ نیتن یاہو نے کہا ' میں نے فوجی سربراہان سے کہا ہے کہ مجھے اس سلسلے میں اپنا دوہرا منصوبہ دکھائیں۔ جس میں شہریوں کے رفح سے انخلا سے متعلق بھی ہو اور رفح سے حماس کی مکمل صفائی کا ہے، تاکہ رفح میں حماس کی کوئی بٹالین باقی نہ رہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں