فلسطین اسرائیل تنازع

رفح پر حملہ امدادی پروگرام کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا: انتونیو گوتریس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے سیکرتری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے۔ کہ اسرائیل نے رفح پر جنگی یلغار کی تو اس سے رفح میں موت کا ایسا طوفان اٹھے گا کہ ہے کہ انسانی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں مکمل طور پر ناکافی ہو کر رہ جائے گا۔

وہ جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں میں بات کرتے ہوئے جنوبی غزہ کے شہر رفح کا ذکر کر رہے تھے۔ رفح میں اس وقت 14 لاکھ فلسطینی بے گھر آبادی نے پناہ لے رکھی ہے۔ مگر اسرائیل اس گنجان آباد تر ہو چکے چھوٹے شہر کو اپنی بھر پور جنگی قوت سے نشانہ بنانے کا اعلان کر چکا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا ' ایک مکمل اسرائیلی جارحیت سے نہ صرف یہ کہ 14 لاکھ فلسطینی پناہ گزین خوفزدہ ہوں گے بلکہ اسرائیلی جارحیت امدادی کارروائیوں کے ہمارے پروگراموں کے تابوت میں بھی آخری کیل ثابت ہو گی۔'

سیکرٹری جنرل کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز کہا تھا کہ کہا تھا کہ رفح پر حملہ اسرائیلی کی مکمل فتح کے لیے ضروری ہے۔ اسی صورت میں ہم حماس کا خاتمہ کر سکیں گے۔

نیتن یاہو نے کہا ' جب ہم رفح میں زمین پر اتریں گے تو اسی صورت ہم فتح مند ہوں گے۔ یہ ان کا کہنا اس وقت سامنے آیا جب دوحہ میں مذاکرات کا اگلا دور شروع ہونے کی اطلاعات چل رہی تھیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا ' رفح کے حوالے سے بطور خاص اسرائیلی عزائم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کوئی بھی اجتماعی سزا جواز نہیں رکھتی ہے۔' وہاں سے موقع پر غزہ میں جاری انسانی بحران کا بھی حوالہ دیا۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ غزہ میں انسانی ضرورتوں کے مقابلے امدادی پروگرام بالکل ناکافی ہے۔

انہوں نے مزید کہا ' میں اپنی اپیل کو دہرا رہا ہوں کہ انسانی بنیادوں پرفوری جنگ بندی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے اس موقع پر انسانی حقوق کمیشن کے ورکنگ اور طریق کار کو بھی مزید بہتر اور موثر بنانے کے لیے زور دیا کہ کمیشن کو اس وقت برے چیلنجوں کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں