فلسطین اسرائیل تنازع

شمالی غزہ کے فاقہ کشوں کے لیے پہلی بارامداد لے جانے کی اسرائیلی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شمالی غزہ میں غذائی قلت کی وجہ سے اموات ریکارڈ کیے جانے کے بعد اسرائیل شمالی حصے میں پہلی بار امداد لے جانے کی اجازت دینے کی تیاری کررہا ہے۔

باخبر اسرائیلی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل پہلی بار انسانی امداد کو براہ راست شمالی غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے گا تاہم یہ امداد جنوبی غزہ میں نہیں دی جائے گی۔

اسرائیلی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے وضاحت کی کہ ابتدائی طبی امدادی قافلے آج پیر کی شام شمالی غزہ میں داخل ہوں گے۔

طے شدہ منصوبے کے مطابق انسانی امداد سے لدے ٹرکوں کو اسرائیلی فوج کاریم شالوم یا العوجہ کراسنگ پر سکیورٹی چیک سے گزرنا پڑے گا، جس کے بعد وہ شمال میں انسانی ہمدردی کی راہداری کے علاقے میں غزہ میں داخل ہوں گے۔

مقامی حکام

اس کے بعد امداد کو مقامی عہدیداروں کے ذریعہ الزیتون کے محلے میں نقل مکانی کے مراکز تک پہنچایا جائے گا تاہم اسرائیل نے ان مقامی حکام کی شناخت نہیں کی۔

ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حکومت کی کارروائیوں کے کوآرڈینیٹر میجر جنرل غسان الیان نے شمالی غزہ کے مقامی حکام سے رابطہ کیا اور ان سے حماس کے متبادل کے طور پر علاقے میں امداد کی فراہمی کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے اپنے رضامندی کا اظہار کیا۔

رفح میں خوراک کی امداد کے منتظر بچے (اے ایف پی)
رفح میں خوراک کی امداد کے منتظر بچے (اے ایف پی)

یہ قدم شمالی غزہ میں مشکل حالات اور خوراک، پانی اور ادویات کی یکساں شدید قلت کے پس منظر میں امریکی دباؤ کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ غزہ کے باشندوں کو امداد فراہم کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے UNRWA نے اس سے قبل غزہ کے تمام علاقوں بالخصوص شمال میں تباہ کن حالات سے خبردار کیا تھا۔

اس نے متنبہ کیا تھا وہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک شمالی غزہ تک خوراک کی امداد نہیں پہنچا سکے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں