فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کے عوام کو ہم نہیں اسرائیل بھوکا پیاسا مار رہا ہے:حماس

ہم غزہ میں تمام ناراض آوازوں کا خیر مقدم کرتے ہیں:نزال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کئی مہینوں سے محصور غزہ کی پٹی پر فوجی کارروائیوں میں شدت کے ساتھ اور تل ابیب کی جانب سے رفح پر فوج کشی کے اعلان پر حماس نے رد عمل جاری کیا ہے۔

مشکل مذاکرات

تحریک کے پولیٹیکل بیورو کے رکن محمد نزال نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی کے حوالے سے جاری مذاکرات مشکل ہیں۔انہوں نے کہا کہ حماس اور اس کے رہ نما غزہ کی پٹی میں تمام ناراض اور تھکی ہوئی آوازوں اور مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔ان کا اشارہ غزہ میں جاری شدید اسرائیلی بمباری، بھوک کو روکنا اور فوری امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔

انہوں نے اتوارکے روز العربیہ/الحدث کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں حماس کے خلاف بولنے والی آوازیں من گھڑت ہو سکتی ہیں۔ اس تحریک نے وہاں کے لوگوں کو بھوکا نہیں مارا، بلکہ اسرائیل انہیں بھوکا پیاسا مارنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی عوام کو جنگ کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ امن معاہدے سے کچھ نہیں ہوا۔

نزال نے کہا کہ فلسطینی ایوان صدر نے غزہ کی جنگ کو مسترد کر دیا ہے، فلسطینی صدر محمود عباس کے مذاکراتی راستے نے زیادہ سے زیادہ ممکنہ رعایتیں فراہم کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر کو حماس کی عسکری تاریخ کی تاج پوشی تھی۔ ان کا اشارہ حماس کی جانب سے گذشتہ سال غزہ کے اطراف کے علاقوں پرکیے گئے اچانک حملے کی طرف تھا جس کے نتیجے میں 1,140 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے نزال نے زور دیا کہ اب ترجیح اسرائیلی فوج کا انخلا اور غزہ میں امداد کا داخلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک فلسطینی حکومت موجود ہے نئی حکومت کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے اعلان کیا کہ اسرائیل، مصر، قطر اور امریکہ نے عارضی جنگ بندی کا اعلان کرنے کے لیے قیدیوں کے معاہدے کی "بنیادی شرائط " ایک معاہدہ کیا ہے۔

سلیوان نے اتوار کو مزید کہا کہ یہ معاہدہ ابھی تک بات چیت کے مرحلے میں ہے۔ قطر اور مصر کے درمیان حماس کے ساتھ بالواسطہ بات چیت ہونی چاہیے۔

انہوں نےمزید کہا کہ بائیڈن نے ابھی تک رفح آپریشن کے حوالے سے اسرائیل کا منصوبہ نہیں دیکھا ہے۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ شہریوں کے تحفظ کے منصوبے کے بغیر رفح آپریشن کو آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔

دسیوں ہزار اموات

قابل ذکر ہے کہ غزہ کی پٹی گذشتہ 7 اکتوبر سے مکمل محاصرے اور اسرائیلی بمباری کی زد میں ہے جس کے نتیجے میں اب تک دسیوں ہزار سے زیادہ متاثرین جا چکے ہیں۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رفح شہر میں بے چینی بڑھ رہی ہے جہاں کم از کم 1.4 ملین افراد جمع ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لڑائی سے بے گھر ہونے والے شہری ہیں۔ اگر وہاں اسررائیلی فوج آپریشن کرتی ہے تو بڑی تعداد میں اموات کا اندیشہ ہے۔

اس ماہ کے شروع میں قاہرہ میں غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ روکنے کے لیے امریکی، قطری اور اسرائیلی وفود کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے، جس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔

ایک مصری عہدیدار نے کہا کہ غزہ پر مذاکرات پیرس سے قطر اور پھر مصرمیں منتقل ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں