چند ہفتوں میں نئی فلسطینی حکومت تشکیل پا جائے گی: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل اور تحریک حماس کے درمیان متعدد قیدیوں کے تبادلے کے بدلے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت میں تیزی آگئی ہے۔ اس کے ساتھ کچھ عرصے سے پردے کے پیچھے ایک نئی فلسطینی اتھارٹی کی تشکیل کے لیے بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ یہ ایسی اتھارٹی ہوگی جو تمام فلسطینیوں کی خواہشات کو پورا کرے گی اور تباہ شدہ پٹی میں مستقبل کی حکمرانی سنبھالتی ہے۔

دریں اثنا ذرائع نے اتوار کے روز العربیہ اور الحدث کو بتایا ہے کہ محمد اشتیہ کی سربراہی میں موجودہ حکومت ایک ہفتے کے اندر مستعفی ہونے کا اعلان کر دے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئی حکومت جو ان کی جگہ لے گی وہ خصوصی وزراء کا حوالہ دیتے ہوئے صرف "ٹیکنو کریٹس" پر مشتمل ہوگی۔ جہاں تک اس کی صدارت کے لیے تجویز کردہ نام کا تعلق ہے، معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فلسطین انویسٹمنٹ فنڈ کے سربراہ محمد مصطفیٰ ہوں گے۔

پہلے ہی یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ واشنگٹن ایک نئی فلسطینی اتھارٹی کے قیام کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو بدعنوانی یا سستی کے الزامات سے بری ہو اور مغربی کنارے اور غزہ کو متحد کرے اور جنگ کے بعد پٹی کی حکومت بھی سنبھال لے۔ حال ہی میں فلسطینی حلقوں میں ایک قومی اتحاد کی حکومت کے بارے میں بات چیت پھیل رہی ہے جو فتح اور حماس کے تمام دھڑوں کو ایک ساتھ اکٹھا کردے۔

اگرچہ اسرائیل واضح طور پر غزہ کے انتظام میں کسی بھی طرح سے تحریک حماس کی شرکت سے انکار کر رہا ہے اور اس نے بارہا کہا ہے کہ وہ حماس کے رہنماؤں کو قتل یا گرفتار کرلے گا۔ تاہم اس نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ غزہ کو غیر فوجی بنا دیا جائے گا یا اس کی انتظامیہ مقامی سویلین حکام کے حوالے کر دی جائے گی۔ واضح رہے غزہ کی پٹی کی حکمرانی کا مسئلہ غزہ میں طویل جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات میں ایک اہم موضوع ہے۔ یہ تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان تنازع کا ایک اہم نکتہ بھی بنا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں