یمن کے حوثی باغیوں کا امریکہ اور برطانیہ کے حملوں میں پہلی شہری ہلاکت کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کی ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے ہفتے کے آخر میں مشترکہ چھاپوں کے تازہ ترین دور کے بعد امریکی اور برطانوی فضائی حملوں میں پہلی شہری ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

حوثیوں کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اتوار کو تادیر کہا کہ ایک شخص ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔ امریکی اور برطانوی افواج نے کہا کہ انہوں نے ملک بھر میں 18 حوثی اہداف پر فائرنگ کی جس کے ایک دن بعد حوثی ایجنسی کا یہ بیان آٰیا۔

امریکی-برطانوی حملے نومبر سے بحیرۂ احمر کی جہاز رانی پر درجنوں حوثی ڈرون اور میزائل حملوں کے جواب میں تھے جن کے بارے میں ملیشیا کہتی ہے کہ وہ غزہ جنگ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے کر رہی ہے۔

حوثیوں کی صبا ایجنسی نے ان کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "تعز کی گورنری کے ضلع مقبانہ پر امریکی-برطانوی جارحیت کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔"

جنگ زدہ یمن کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقوں پر قابض حوثی اس سے قبل فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے مغربی حملوں میں اپنے 17 مزاحمت کاروں کی ہلاکت کی اطلاع دے چکے ہیں۔

حوثیوں کے حملوں نے بحیرۂ احمر کے مصروف راستے سے گذرنے والی ٹریفک کوخاصا متأثر کیا ہے جس سے کچھ کمپنیاں جنوبی افریقہ کے گرد دو ہفتے کا چکر لگانے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ گذشتہ ہفتے مصر نے کہا تھا کہ اس سال نہر سویز کی آمدنی میں 50 فیصد تک کمی آئی ہے۔

اسرائیل کے اہم اتحادی واشنگٹن نے دسمبر میں بحیرۂ احمر کی ٹریفک کے تحفظ کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد قائم کیا۔ اس نے حملوں کے کئی راؤنڈز کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے ساتھ چار مشترکہ چھاپے مارے ہیں جو گذشتہ ماہ شروع ہوئے تھے۔

حوثیوں نے شروع میں کہا کہ وہ بحیرۂ احمر اور اس سے ملحقہ خلیجِ عدن میں اسرائیل سے منسلک جہاز رانی کو نشانہ بنا رہے تھے لیکن پھر اعلان کیا کہ امریکی اور برطانوی مفادات بھی "جائز" اہداف تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں