یہ غزہ ہے! کوئی پرندوں کے فیڈ کی بنی روٹی کھانے پر مجبور ، شیر خوار دودھ سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

یہ غزہ ہے۔ جہاں آٹا نہ ملنے پر تین فلسبطیینی بے گھر بھائیوں نے خیمے میں جانوروں کے فیڈ سے بنی روٹیاں بنا کر اپنے بھوک مٹانی، ان کے پاس نان جویں کی سہولت بھی اب موجود نہیں۔ بلا شبہ وہ تیل اور گیس کی دولت سے مالا مشرق وسطی ٰ کے باسی ہیں۔ مگر مجبور و مقہور ، بے یارو مدد گار اور لا چار بد قسمتی سے ان تینوں بھائیوں میں سے ایک بھی ابھی بارہ سال کا نہیں ہوا۔ ایک بھائی گیارہ سال کا ہے دوسر نو سال کا اور تیسرا بھائی آٹھ سال کا ہے۔

یہ عمر وہ ہے جب بچوں کے کھانے پینے کی اشیا کے لیے پسند ناپسند سے زیادہ لاڈ اور نخرے والی باتیں ہوتی ہیں۔ مگر یہ تین بھائی پرندوں کے فیڈ سے تیارہ کردہ روٹی کھانے پر مجبور ہیں کہ یہ غزہ ہے۔ فلسطینی سرزمین کا حصہ ، ارض فلسطین۔

ان میں سے سراج شیدا کی عمر 8 سال ہے۔ اسماعیل 9 سال کاہے اور سعد 11 سال کی عمر کو پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے غزہ سے اپنے بے گھر ہونے کے بعد اپنی آنٹی کے پاس دیر البلح میں ان کے لگائے گئے خیمے میں پناہ لی ۔ گویا آنٹی بھی بے گھری اور پناہ گزینی کا شکار ہیں۔

سراج شیدا نے بتایا ' جب ہم غزہ شہر میں بے گھری کی زندگی گزار رہے تھے تو ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہ ہوتا تھا۔ اس لیے دو دن بعد کچھ کھانے کی کوشش کرتے کہ کسی طرح دو دن بھوکے رہ لیں اس کے بعد کچھ کھا لیں گے کہ اس کے بغیرہ کوئی امکان ہی نہ تھا۔، سراج نے جب یہ بات بتائی تو اس کیمپ میں وہ ایک بڑے سے برتن میں پڑے ہوئے حلوے کو چمچ سے کھا رہا تھا۔ گویا اب وہ بہت خود کو بڑا خوش قسمت محسوس کر رہا تھا۔

اس نے اپنے اوپر بیتنے والی کیفیات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ' ایسا بھی ہوا کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا تو ہمیں پرندوں کے لیے دانے سے بنی ہوئی روٹی ملی جو ہم نے کھائی۔ یہ ایک ناقابل تصور دن تھا۔'

غزہ میں خوراک کی قلت کا مسئلہ ہر طرف ہے۔ لیکن شمالی غزہ میں یہ مسئلہ سنگین ترین ہے۔ واضح رہے شمالی غزہ میں ہی ایک باپ نے اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کے لیے پچھلے دنوں انہیں گھوڑے کا گوشت کھلا دیا تھا۔ کہ زندہ رہنے کے لیے یہ کرنا ضرورری ہو گیا تھا۔

امدادی سامان کی شمالی غزہ میں ترسیل سب سے زیادہ رکاوٹوں کی وجہ سے محدود تر ہے۔ محض کوئی اکا دکا ٹرک ہی آنے کی اجاز دی جاتی ہے۔ یہ فلسطینی تڑپ تڑپ اور گھت گھٹ کے ہی جی سکیں۔ اس سلسلے میں اسرائیلی رکاوٹیں بے پناہ ہیں۔ عالی ادارہ خوراک نے بھی انہی رکاوٹوں کے سبب اپنے تھوڑی بہت ہونے والی سپلائی روک دی ہے۔

اب اس علاقے میں ہجوم ہیں جو بھوکے اور پیاسے ہیں، مسلسل بھوک کاٹنے کی وجہ سے ان کے جسم سوکھ سکڑ رہے ہیں اور آنکھیں اندر کو دھنس رہی ہیں۔ اس کے مقابلے میں بتایا جاتا ہے کہ وسطی غزہ میں صورت حال قدرے مختلف ہے۔

النصیرات پناہ گزین کیمپ دیر البلح کے شمال میں ہے۔ وردہ مطار ایک بے گھر ماں ہیں۔ یہ اپنے دو ننھے بچوں کے ساتھ ایک سکول میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان کے بچے چھوٹے ہونے کے باوجود دودھ سے محروم ہو چکے ہیں۔ میں اپنے بچے کے لیے دودھ نہیں لے سکتی نہ کسی بھی طور میرے لیے ممکن ہے اس کے باوجود کہ بچہ ابھی شیر خوارگی کی عمر میں ہے۔

مطار نے اپنے ساتھ بیتنے والے حالات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا۔ 'وہ کہہ رہی تھیں ہر دو دن بعد ایک چھوٹی سی روٹی مل جاتی ہے۔'

دیر البلح میں ایک خیمے میں تین بھائیوں نے بتایا ان کی ماں ان سے بچھڑ چکی ہیں۔ ایک بھائی اور کئی رشتہ دار خواتین بھی جنگ کی نذر ہو چکی ہیں۔ وہ اپنے والد اور دادی کے پاس کیمپ میں رہ رہے ہیں۔ بھوکے پیاسے اور بغیر کسی مناسب کپڑے اور کمبل کے۔

خیمے میں موجود ایک خاتون نے بتایا ' ان کے شوہر جنگ میں شہید ہو گئے ہیں، وہ حاملہ ہیں، مگر اس کیمپ میں ایک بے چارگی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔' ایک کلو آلو خرید کر پکانے یا کھانے کی استطاعت نہیں رہی ہے۔ مجھے اپنے بچے کو اسی خیمے میں جنم دینا ہو گا کہ اب اس میں شاید زیادہ دن دور بھی نہیں ، مگر میں سوچ کر کانپ جاتی ہوں۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں