فلسطین اسرائیل تنازع

’’ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے، جانوروں کا چارہ بھی ختم ہوچکا‘‘

شمالی غزہ کے لوگ زندگی اور موت کی کشمکش کا شکار، روٹی کے ایک لقمے کو ترس گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کی پٹی پراسرائیلی جنگ اپنے 143 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے جب کہ انسانی بحران تیزی سے اور خطرناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔ایسے میں عالمی ادارہ خوراک کے اندازے کے مطابق غزہ کی ایک چوتھائی سے زیادہ آبادی خوراک سے محروم ہوچکی ہے اوران کے پاس کھانے کو کچھ نہیں جب کہ 90 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

اگرچہ غزہ کی پٹی کے مختلف گورنریوں میں اشیائے خوردونوش کی قلت اور صاف پانی اور طبی خدمات کی قلت موجود ہے مگر شمالی غزہ کی پٹی کے عوام بدترین فاقہ کشی کی زندگی گذار رہےہیں۔

تقریباً آٹھ لاکھ فلسطینیوں کو کوئی امداد نہیں مل رہی اور انہیں قحط کا سامنا ہے، یہاں تک کہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے زندہ رہنے جانوروں کے چارے کو خوراک کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا ہے مگراب وہ چارہ بھی ختم ہوچکا ہے۔

اب چارہ بھی ختم ہو رہا ہے

اس تناظر میں شہری محمد الغول نے اپنے چہرے پر تھکن کے آثار کے ساتھ کہا کہ ’’ہم تھک چکے ہیں اور یہ سب کچھ ہمارے جسموں پر صاف نظر آرہا ہے۔ ہمارے پاس اناج ختم ہو گیا، ہمارے پاس آٹا ختم ہو گیا، ہمارے پاس چاول ختم ہو گئے اور جانوروں کے چارے تک کچھ نہیں بچا"۔انہوں نے مایوسی کے عالم میں پوچھاکہ "ہم قتل کے ان تمام طریقوں کے سامنے کیا کریں جو ہمارے خلاف رائج ہیں، قتل، بھوک، تباہی، محاصرہ اور سردی؟ یہ اس کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جس کا ہم شمالی علاقوں میں سامنا کر رہے ہیں"۔

غزہ کی تباہی کا منظر
غزہ کی تباہی کا منظر

غزہ شہر کے رہنے والے ابو علاء نے بھی کچھ ایسے ہی تاثرات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "کھانے کے لیے کچھ نہیں بچا، ہم بھوک پر صبر کر سکتے ہیں لیکن ہم اپنے بچوں کو کیا کہیں جو دو دو دن کچھ نہیں کھا سکتے۔ دو دن بعد بھی کہیں ایک وقت کا کھانا یا جانوروں کا چارہ دستیاب ہوتا ہے‘‘۔

"ہمیں خوراک چاہیے "

شمالی غزہ کی پٹی تعلق رکھنے والی ایمان عبید نے کہا کہ زندگی اب ناقابل برداشت ہوچکی ہے۔ ہمارے پاس اب آٹا یا کھانا نہیں ہے اور ہم اسے پکانے اور اپنے بچوں کو کھلانے کے لیے چارہ پیس کر کھاتے ہیں۔ ہم تھک چکے ہیں۔ یہاں تک کہ چاول کی قیمت، جو ہم ایک طویل عرصے تک کھاتے تھے، اب جنگ سے پہلے کے مقابلے میں پانچ گنا بڑھ چکی ہیں۔ اب ہم اسے خریدنے کے قابل نہیں رہے اور گندم کا آٹا بھی غائب ہے۔ جو کے آٹے کی قیمت بڑھ گئی ہے حالانکہ ان کا ذائقہ خراب ہے۔ اب ہم وہ کھا رہے ہیں جو جانور نہیں کھاتے‘‘۔

بچے احمد ابو عودہ کا کہنا ہے کہ اس کی سب سے بڑی خواہش دنیا کے باقی بچوں کی طرح کھانا کھانا ہے۔ اس نے کہا کہ میرے گردے بیمار ہیں اور مجھے خوراک اور علاج کی ضرورت ہے، کچھ بھی نہیں ہے، میں بھوک سے نہیں مرنا چاہتا، دن گزر جاتے ہیں اور میں صرف ایک وقت کا کھانا کھاتا ہوں۔ میں تھک گیا ہوں، ہم کھانا چاہتے ہیں"۔

غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے خبردار کیا تھا کہ بالعموم پوری غزہ کی پٹی بالخصوص شمالی غزہ کی پٹی میں قحط تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے جس سے لاکھوں بچوں اور خواتین کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔

غزہ میں فلسطینی ہلال احمر کے ترجمان راید نمس نے تصدیق کی ہے کہ بھوک اور خوراک تک رسائی کی کمی کے نتیجے میں بچوں، بوڑھوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد میں بڑی تعداد میں اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں