اردن کا چار جہازوں کی مدد سے غزہ میں امدادی سامان کی ائر ڈراپنگ کا بڑا آپریشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی کے اسرائیلی محاصرے اور مسلسل بمباری کے تناظر میں اردن کی مسلح افواج نے پیر کے روز پٹی کے مکینوں کو امداد پہنچانے والے چار طیارے بھیجے۔ ان طیاروں نے امدادی سامان غزہ میں پھینکا۔

سامان پھینکنے کے اس آپریشن میں چار سی 130 طیاروں نے حصہ لیا۔ ان طیاروں میں سے ایک طیارہ فرانسیسی مسلح افواج کا تھا۔ امداد میں غذائی مواد شامل ہے۔ اس میں اعلیٰ غذائیت کے حامل تیار کھانے بھی شامل ہیں تاکہ غزہ کی پٹی کے لوگوں کو جنگ کے نتیجے میں جن مشکل حالات کا سامنا ہے ان کے مصائب کو کم کیا جا سکے۔

ان ایئر ڈراپس کا مقصد بنیادی طور پر آبادی کو براہ راست امداد پہنچانا اور اسے غزہ کی پٹی کے ساحل کے ساتھ شمال سے جنوب تک پہنچانا تھا۔

اردن کی مسلح افواج میں ملٹری انفارمیشن کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل مصطفیٰ الحیاری نے کہا کہ یہ آپریشن رائل ایئر فورس کی جانب سے چھ نومبر 2023 سے آج تک کئے گئے فضائی امداد بھیجنے کا تسلسل ہے۔ یہ سلسلہ غزہ کی پٹی پر جنگ بند ہونے تک جاری رہے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پہلی مرتبہ کرسمس کے موقع پر ایک محصور گرجا گھر تک امداد پہنچائی گئی تھی۔ پیر کو آپریشن کا مقصد غزہ کی پٹی کے ساحل کے ساتھ 11 مقامات پر بحیرہ روم کے شمال سے جنوب تک امداد پہنچانا تھا۔

اسرائیلی بربریت کی وجہ سے غزہ میں قحط کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ لوگ گھاس کھانے پر مجبور ہیں۔ دودھ نہ ملنے پر ایک دو ماہ کا بچہ جاں بحق ہونے کی اطلاع بھی ملی۔ ایک فلسطینی والد نے بتایا کہ کیسے اس نے اپنے بچوں کو گھوڑے کا گوشت کھلایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں