فلسطین اسرائیل تنازع

السنوار کے ٹھکانے کا پتا ہے مگراسے پکڑنا یا مارنا مشکل ہے: انٹیلی جنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی اور امریکی حکام اس بات پر متفق ہیں کہ غزہ میں حماس کے لیڈر یحییٰ السنوار اب بھی جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں سرنگوں کے اندر ہے وہ اپنے آپ کو اسرائیلی یرغمالیوں کے ساتھ گھیرے ہوئے ہے جسے وہ انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے"۔

امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" نے سرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ السنوار کو گرفتار کرنا یا زندہ پکڑنا مشکل ہے۔

السنوار کے ٹھکانے کو ظاہر کرنے سے بھی سب سے بڑا چیلنج اسے مارنے یا گرفتار کرنے کے لیے اس طرح سے آپریشن کرنا ہے جس سے یرغمالیوں کو خطرہ لاحق نہ ہو۔ ایک سینیر اسرائیلی اہلکار نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسے تلاش کرنے کا امکان موجود ہے لیکن معاملہ اسے تلاش کرنے کا نہیں ہے بلکہ یرغمالیوں کی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر کچھ کرنے کا ہے"۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکہ بھی السنوار کی تلاش میں حصہ لے رہا ہے لیکن احتیاط کے ساتھ جبکہ تفصیلات سے واقف ذرائع نے بتایا کہ امریکی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی کے تجزیہ کار اسرائیل کو حماس کی سرنگوں کے نقشے تیار کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درماین انٹیلی جنس تعاون السنوار کی تلاش میں مدد کر سکتا ہے، حالانکہ امریکی انٹیلی جنس کے پاس غزہ کی پٹی میں ایجنٹ نہیں ہیں۔ وہ اسرائیل کی پٹی میں روزانہ کی کارروائیوں میں مدد نہیں کرتا۔

خیال رہے کہ غزہ کی پٹی میں جاری لڑائی میں اسرائیل کا اہم ہدف حماس کی قیادت بالخصوص السنوار کو گرفتار کرنا یا اسے مارنا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ السنوار سات اکتوبر کے حملے کا ماسٹر مائینڈ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں