امریکہ و اسرائیل کی طرف سے قتل کا خطرہ ہے:نئے ایرانی سپریم لیڈر کا نام خفیہ رکھا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی عالم نے کہا ہے کہ نئے ایرانی سپریم لیڈر کی شناخت کو خفیہ رکھا جائے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے قتل کیے جانے خطرہ ہو سکتا ہے۔ ایرانی سینئیر عالم کے اس انداز سے لگتا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کر لیا گیا ہے، با اعلانکو روکا ہوا ہے۔

محمد علی معسوی جزائری کا کہنا تھا' یہ نام سو فیصد خفیہ ہے ، اس لیے اسے بر سر عام زیر بحث نہیں لایا جانا چاہیے۔ 'موجودہ سپریم لیڈر 84 سالہ علی خامنہ ای 1989 سے اس منصب پر فائز ہیں۔

ایران کے ماہرین کی اسمبلی کے رکن اور سینئیر عالم محمد علی موسوی جزائری نے ایرانی ویب سائٹ ' دید بان ' کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کو ظاہر کرنے سے انہیں امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے قتل کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ واضح رہے ماہرین کی اسمبلی 88 ارکان پر مشتمل ہے۔
یکم مارچ کو ایرانی عوام اسمبلی کے ارکان کا انتخاب کریں گے۔ امکان یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ سپریم لیڈر کی پیرانہ سالی کی وجہ سے امکان ہے آنے والی اسمبلی نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کرے گی۔

حالیہ برسوں کے دوران دو شخصیات ان میں ایک نام کے نام زیر بحث آتے رہے ہیں، ان میں مجتبیٰ خامنہ ای اور موجودہ صدر ابراہیم رئیسی شامل ہیں۔ پچھلے چند ہفتوں کے دوران ایرانی سپریم لیڈر نے اسمبلی انتخاب کے لیے عوام کو متوجہ کرتے ہوئے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے زیادہ سے زیادہ تعداد میں کہا ہے۔ تاکہ بہتر ٹرن آؤٹ سامنے آ سکے۔

واضح رہے 2020 میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ کم ہو کر بیالیس اعشاریہ چھ فیصد تک رہ گیا تھا۔ تاہم اس مرتبہ امیدواروں کی تعداد پہلے کے مقابلے کافی زیادہ سامنے آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں