ایوارڈ یافتہ اسرائیلی فلم ڈائریکٹر پر یہود مخالفت کا الزام، قتل کی دھمکیوں کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلیوں نے اپنے ہی ہم وطن اسرائیلی شریک فلم ڈائریکٹر کو موت کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ عالمی سطح پر ایوارڈ یافتہ دستاویز فلم کے شریک ڈائریکٹر یوول ابراہم کو اسرائیل کے اندر سے اس وجہ سے جان سے مار دینے کی دھمکیاں ملنا شروع ہو گئی ہیں کہ انہوں نے ایک فلمی میلے کے دوران مطالبہ کیا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کی جائے۔

دوسری وجہ ان کی طرف سے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو قتل کرنے کے واقعات کو اسرائیلی نسل پرستی ک نتیجہ قرار دیا دیا ہے۔ بس شریک فلم ڈائریکٹر کا یہ کہنا تھا کہ انہیں دھمکیاں موصول ہونے لگیں۔

ان کے اس موقف کو اسرائیلی ہم وطن یہود دشمنی قرار دینے لگے ہیں ہیں۔ کہ انہوں نے غزہ میں جنگ بندی اور مغربی کنارے میں اس طرح کے نسل پرستانہ واقعات کے خلاف بات کیوں کی ہے۔

واضح رہے اسرائیل کے اس معروف شریک فلم ڈائریکٹر یوول ابراہم نے اپنے بھائی بندوں کو کسی نفرت سے نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ مشورہ دیا تھا۔

اتفاق سے ایک ماہ پہلے بین الاقوامی عدالت انصاف نے اسرائیل کو غزہ میں اپنی فورس کو نسل کشی کے گریز کرنے کے لیے کہنے کا کہا تھا اور یہ حکم دیا تھا کہ نسل کشی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کی رپورٹ عدالت کو بھیجی جائے۔ اسی عدالت میں اقوام متحدہ کی درخواست پر فلسطین پر اسرائیلی قبضے کی قانونی پوزیشن کے بارے میں سماعت کے لیے کہا تھا جو ایک روز قبل مکمل ہو گئی ہے۔

اسرائیلی فلم ڈائریکٹر نے بطور شریک ڈائریکٹر فلم میں بتایا کہ مغربی کنارے میں کس طرح گھروں کو عینی شاہدوں کے سامنے مسمار کیا جاتا ہے اور کس طرح فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جاتا ہے۔ ان کی دستاویزی فلم میں بتایا گیا ہے کہ مسافر یطا میں وہ ان واقعات کے عینی شاہد ہیں۔

اپنی دستاویزی فلم 'نو ادر لینڈ' پر اپنے شریک ڈائریکٹر کے ساتھ ایوارڈ وصول کتے ہوئے یوول ابراہم نے کہا اب انہیں اپنے اس ملک میں واپس جانا ہے ، جہاں ہم برابر نہیں ہیں۔'

یوول ابراہم نے اپنے شریک ڈائریکٹر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا 'میں سول لاء کے تحت چلنے والے علاقے میں رہتا ہوں جبکہ میرا ساتھی ڈائریکٹر باسلفوجی قانون والے علاقے میں رہتا ہے۔ ہم دونوں کے گھروں کے درمیان 30 منٹ کا فاصلہ ہے مگر مجھے ووٹ کا حق حاصل ہے اور باسل کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔ '

یوول نے مزید کہا ' میں آزادانہ گھوم پھر سکتا کہ مجھے نقل وحرکت کا حق ہے، مگر میرے ساتھی اور رفیق کار کو دوسرے لاکھوں فلسطینیوں کی طرح یہ حق میسر نہیں ہے۔' ہر صورت حال نسل پرستی اور عدم مساوات کی وجہ سے ہے۔ یوول ابراہم نے مزید کہا۔

اسرائیلی فلم ڈائریکٹر نے کہا 'ہماری دستاویزی فلم مسافر یطا سے جبری بے دخلیوں کے حوالے سے ہے، اس ایوارڈ ملا ہے۔ ہمارے ایک ٹی وی چینل 11 نے صرف 30 سیکنڈ کے لیے چلائی گئی، اس میں بھی میری گفتگو تھی مگر اس پر کہہ دیا گیا کہ یہ یہود مخالف ہے۔ یہودیوں کا دشمن ہے۔' یوول ابرام نے کہا 'اس کے بعد سے مجھے موت کی دھمکیاں مل رہی ہیں مگر میں اپنے ایک ایک لفظ کے ساتھ کھڑا ہوں۔ '

ابراہم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس' پر لکھا ہے 'میں موت کی دھمکیاں وصول کر رہا ہوں مگر میں اپنے ایک لفظ کے ساتھ کھڑا ہوں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں