حماس نے مجوزہ 40 روزہ جنگ بندی سمیت دیگر نئی تجاویز پر غور شروع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے پیرس کے جمعہ کے روز ہونے والے ثالثوں کے مذاکرات کے بعد قطر میں ثالثوں کے پڑاؤ کے دوران سامنے آنے والی نظر ثانی شدہ تجاویز کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ' رائٹرز ' کو مذاکرات سے جڑے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ نظر ثانی شدہ تجاویز میں 40 دن کے لیے جنگ بندی کے علاوہ ایک اسرائیلی یرغمالی کے بدلے میں دس فلسطینی قیدیوں کی رہائی، یومیہ پانچ سو امدادی ٹرکوں کی غزہ آمد اور ہزاروں خیموں کی فراہمی سمیت ہسپتالوں اور بیکریوں می مرمت و بحالی شامل بتائی گئی۔

اس نئی تجاویز کے مسودے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حماس مجموعی طور پر اس دوران 40 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔ ان رہائی پانےوالوں میں یرغمالی خواتین اور 19 سال سے کم عمر کے بچوں کو شامل کیا گیا ہے۔ نیز 50 سال سے بڑی عمر کے بیمار یرغمالیوں کو پہلے رہائی کی ابتدائی فہراست میں رکھا گیا ہے۔

ان میں سے ہر ایک یرغمالی کے بدلے میں 10 فلسطینیوں کو اسرائیل رہائی دے گا، مزید یہ کہ اسرائیلی فورسز دوبارہ انہیں رہا ہونے والے فلسطینیوں کو گرفتار نہیں کریں گی۔ مذاکرات سے جڑے ذرائع اور مبصرین کے مطابق یہ حالیہ ہفتوں کے دوران ہونےوالے مذاکرات میں سب سے سنجیدہ مذاکرات کا مرحلہ ہے۔ اس میں کافی پیش رفت اور نسبتاً لمبی جنگ بندی کا امکان پیدا ہو رہا ہے۔

اگرچہ رفح پر حملے کے حوالے سے ان تجاویز میں سے کوئی چیز ابھی سامنے نہیں لائی گئی ہے تاہم اس امر کا امکان رد نہیں کیا جا رہا ہے کہ اگر رمضان میں غزہ میں جنگ بندی ہو رہی ہے تو اس کا اثر رفح شہر پر اسرائیل کی متوقع جنگی یلغار پر بھی ہوگا۔

ادھر امریکہ میں ایک ٹی وی کے ذریعے صدر جوبائیڈن کے سامنے آنے والے ریمارکس میں کہا گیا ہے کہ امکانی طور پر اسرائیل اور حماس کے درمیان اس جنگ بندی کا پورے رمضان پر محیط رہے گا، جو 10 مارچ سے 9 اپریل تک توقع کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں