حماس کا نئی فلسطینی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے: صدارتی مشیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے پیر کے روز اس اعلان کے بعد کہ انھوں نے وزیر اعظم محمد اشتیہ کی حکومت کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے، اور انہیں نئی حکومت کے قیام تک اپنا کام کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، صدارتی مشیر محمود الھباش نے نئی فلسطینی حکومت کی تشکیل کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک اندرونی معاملہ جس کا بیرونی تحفظات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

"صرف پی ایل او کا دائرہ اختیار"

انہوں نے پیر کے روز العربیہ/الحدث کے ساتھ بات چیت میں مزید کہا کہ فلسطینی سیاسی امور صرف لبریشن آرگنائزیشن کی ذمہ داری ہے۔

تحریک کے بیانات کے حوالے سے جس میں نئے فیصلے پر تنقید کی گئی تھی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحریک حماس کا فلسطینی حکومت کی تشکیل میں کوئی کام نہیں۔ ان کا خیال تھا کہ حماس نے مستعفی ہونے والی حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کیا اور اس لیے اسے اب برقرار رکھنے کی درخواست کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

یہ بات فلسطینی صدر محمود عباس کے وزیراعظم محمد اشتیہ کے استعفی کے بعد سامنے آئی ہے۔

فلسطینی صدر نے استعفیٰ منظور کرتے ہوئے ایک فرمان بھی جاری کیا اور اپنے مستعفی وزراء کو نئی حکومت کے قیام تک عارضی طور پر حکومت کا کام چلانے کی ذمہ داری سونپی۔

اشتیہ نے پیر کے روز ایک ٹیلی ویژن تقریر میں کہا تھا کہ انہوں نے استعفیٰ صدر محمود عباس کے سامنے رکھ دیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اگلے مرحلے میں طبقاتی اتحاد کو یقینی بنانے کے لیے نئے انتظامات کی ضرورت ہے۔

العربیہ/الحدث کے ذرائع نے اتوار کو اطلاع دی ہے کہ موجودہ عارضی حکومت، جس کی سربراہی محمد شتیہ کرر ہے ہیں، ایک ہفتے کے اندر ذمہ داریاں چھوڑ دے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئی حکومت جو ان کی جگہ لے گی وہ صرف "ٹیکنو کریٹس" پر مشتمل ہوگی۔

نئی حکومت کے لیے تجویز کردہ ناموں میں محمد مصطفی ہیں جو فلسطین انویسٹمنٹ فنڈ کے سربراہ ہیں۔

امریکی دباؤ

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ واشنگٹن مغربی کنارے اور غزہ کو متحد کرنے اور اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے بعد ان پر حکومت سنبھالنے کے لیے ایک نئی فلسطینی اتھارٹی کے قیام کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

حال ہی میں فلسطینی حلقوں میں ایک قومی اتحاد کی حکومت کے بارے میں بات چیت ہورہی ہے جو الفتح اور حماس کے تمام دھڑوں کو ایک ساتھ اکٹھا کرے۔

اگرچہ اسرائیل واضح طور پر غزہ کے انتظام میں کسی بھی عمل دخل سے انکار کرتا ہے، لیکن اس نے بارہا اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس کے رہنماؤں کو کچل دے گا اور انہیں قتل یا گرفتار کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں