سعودی عرب میں پہلی بار 6 آپریٹنگ رومز کا استعمال کرتے ہوئے 3 لیور ٹرانسپلانٹ آپریشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے مشرقی شہر دمام کے کنگ فہد سپیشلسٹ ہسپتال کی ایک طبی ٹیم نے دو بچوں اور ایک بالغ شخص کے لیے 3 لیور ٹرانسپلانٹ آپریشن کرنے کےلیےایک ایسا کارنامہ انجام دیا جس کی دنیا میں کوئی دوسری نظیر نہیں ملتی۔

یہ دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی ٹیکنالوجی سمجھی جاتی ہے جو سعودی عرب کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرتی ہے اور اسے زندہ عطیہ دہندگان سے جگر کی پیوند کاری میں سرفہرست بناتی ہے۔ اس منفرد عمل “دو زندہ عطیہ دہندگان سے مخلوط جگر کی پیوند کاری‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایک ڈومینو طریقہ استعمال کرتے ہوئے اور دوسرا زندہ ڈونر سے"۔

ہسپتال کے آرگن ٹرانسپلانٹ سینٹر نے وضاحت کی کہ تینوں آپریشن جدید ترین طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے کیے گئے جن میں جگر کی پیوند کاری کرنے کے لیے جدید اور پیچیدہ طریقوں کو ملایا گیا۔ طبی ٹیم نے آپریشنز کی ایک سیریز کو انجام دیا۔

تینوں آپریشنز کی تفصیلات

دمام کے کنگ فہد سپیشلسٹ ہسپتال کے سینٹر فار آرگن ٹرانسپلانٹیشن آف ایکسیلنس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹرمحمد القحطانی نے ایک بیان میں کہا کہ ایک غیر متعلقہ عطیہ دہندگان نے خدا کی رضا کے لیے اپنے جگر کا کچھ حصہ ایک چھوٹی بچی کو عطیہ کیا۔ تاہم بچی کے والد جگر کا کچھ حصہ عطیہ کرنے کے قابل نہیں تھے۔اگلے دن جگر کی دو پیوند کاری کی گئی۔ ایک دوسری چھوٹی بچی کے لیے جس کی عمر ڈھائی سال تھی۔ جب کہ ایک بالغ مریض جو میٹابولک بیماری میں مبتلا ہے کے جگر کی پیوند کاری کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ “تیسرا ٹرانسپلانٹ دوسری چھوٹی بچی کے جگر کو دوسرے بالغ مریض میں منتقل کر کے کیا گیا جس کے پاس کوئی ڈونر نہیں تھا۔ بچی کے جگر کے چھوٹے سائز کی وجہ سے بالغ مریض کو دوسرے جگر کے حصے کی ضرورت تھی جسے عطیہ کیا گیا تھا۔

یہ تمام آپریشن انتہائی پیچیدہ اور مشکل تھے مگر سعودی عرب کی طبی ٹیموں نے مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے ان تینوں پیچیدہ ٹرانسپلانٹ آپریشن کو انجام دیا۔

ہسپتال کے اعضاء کی پیوند کاری کے مرکز نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو تصدیق کی کہ یہ مرکز مشرقی علاقے میں انسانی اعضاء کی پیوند کاری کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دمام کے کنگ فہد سپیشلسٹ ہسپتال میں قائم کیا گیا ہے۔ہسپتال سعودی سینٹر فار آرگن ٹرانسپلانٹیشن کے ساتھ مشترکہ طور پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں