فلسطینی حکومت کا استعفیٰ قبول، نئی حکومت کے آنے تک کام جاری رکھنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار کی خبر کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس نے پیر کو اعلان کیا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی حکومت کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے اور اسے نئی حکومت کے قیام تک کام کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ محمود عباس نے وزیر اعظم محمد اشتیہ کا استقبال کیا جہاں انہوں نے حکومت کا استعفیٰ پیش کیا اور اسے صدر کی میز پر رکھ دیا۔

محمود عباس نے اشتیہ کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے ایک فرمان بھی جاری کیا اور اپنے مستعفی وزراء کو نئی حکومت کے قیام تک عارضی طور پر حکومت کا کام چلانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ اشتبہ نے پیر کو ٹی وی تقریر میں کہا کہ انہوں نے استعفیٰ صدر محمود عباس کے سپرد کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگلے مرحلے میں تمام طبقات کے اتحاد کو یقینی بنانے کے لیے نئے انتظامات کی ضرورت ہے۔

اتوار کو ہی العربیہ کے ذرائع نے کہا تھا کہ محمد اشتیہ کی حکومت ایک ہفتے کے اندر استعفی کا اعلان کردے گی۔ یہ بھی کہا تھا کہ نئی حکومت صرف "ٹیکنو کریٹس" پر مشتمل ہو گی۔ جہاں تک حکومت کے سربراہ کے لیے تجویز کردہ نام کا تعلق ہے۔ معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فلسطین انویسٹمنٹ فنڈ کے سربراہ محمد مصطفیٰ ہیں۔ حماس اور فتح نے "ٹیکنو کریٹک" حکومت کو قبول کیا ہے۔

اس سے قبل اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ واشنگٹن مغربی کنارے اور غزہ کو متحد کرنے اور محصور پٹی پر اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے بعد ان پر حکمرانی سنبھالنے کے لیے ایک نئی فلسطینی اتھارٹی کے قیام کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ حال ہی میں فلسطینی حلقوں میں ایک قومی اتحاد کی حکومت کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے۔ یہ اتحادی حکومت فتح اور حماس کے تمام دھڑوں کو ایک ساتھ اکٹھا کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں