سارہ صابری : پہلی مصری خاتون جوآسمان سے آگے تک دیکھنا چاہتی تھی ، خلا سے گھوم آئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سارہ صابری، پہلی مصری خاتون ہیں جو خلا سے گھوم کر واپس آگئی ہیں۔ وہ پہلی مصری شہری ہے، پہلی افریقی خاتون بھی اور پہلی عربی بولنے والی خاتون بھی۔ اب وہ چاہتی ہے کہ خلا کو ہر کسی کی رسائی میں لے آئیں۔

بہت سے لوگ دیکھے بغیر ایمان لانے والے نہیں ہوتے، مگر کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس عزم کے ساتھ ہوتے ہیں ' دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے' کاروباری لوگوں میں بھی یہ بات ہوتی ہے کہ وہ دریافت کو صرف اپنے تک نہیں رکھتے بلکہ دوسروں کو بھی اس میں شریک کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ سارہ صابری انہی میں سے ایک ہیں۔

اس نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کبھی خلا میں بھی جائے گی۔ لیکن 2022 میں اسے یہ اعزا ز مل گیا کہ وہ پہلی افریقی خاتون کے طور پر خلا کے سفر پر روانہ ہوئی۔ اس کے ملک کا نام خلا نوردی میں بھی آگیا۔ اب سارہ کی کوشش ہے کہ خلا تک رسائی ہر ایک کے لیے ممکن بنا دے۔

سارہ نے 'العربیہ ' سے بات کرتے ہوئے کہا ' میں خواب دیکھنے والی ہوں۔ میں جانتی تھی کہ وہاں بہت کچھ اور بھی ہے۔ لیکن ہمارے پاس خلا باز نہیں تھے۔ ہمارے پاس راکٹ لانچ کرنے کی سہولت نہیں تھی۔ ہمیں ہمیشہ یہی بتایا جاتا تھا کہ یہ ہمارے لیے نہیں ہے۔ '

لیکن 'مجھے انجینئرنگ کا پس منظر رکھنے کی بنیاد پر اور مکمل تربیت یافتہ خلاباز ہونے کی وجہ سے ایک غیر منافع بخش ادارے ' سپیس فار ہیومنٹی ' ہزاروں درخواست گذاروں میں مجھے منتخب کر لیا۔ یہ نیو شیپرڈ کا سفر ہونا تھا جو راکٹ سے تیار کیا گیا تھا۔ یوں 4 اگست 2022 کمپنی نے مجھے دیگر پانچ افراد کے ساتھ خلا میں بھیج دیا۔ اس سفر نے مجھ پر گہرا اثر ڈالا ، گویا مجھے بہت تبدیل کر دیا۔ '

سارہ کو لگا جیسے اس نے زمین کو ایک اور انداز سے دیکھا ہے۔ مسائل کو دیکھنے کا ایک زاویہ ملا۔ جیسے ہمارا باہمی تعلق بھی بدل گیا۔ اب وہ اپنی کمپنی ' ڈیپ سپیس انیشیٹو' (ڈی ایس آئی) کے توسط سے خلائی سفر پر بھیجنے میں لگ گئی ہے۔ یہ کمپنی سارہ نے خود بنائی ہے تاکہ خلائی سفر کی مشکلات اور ناممکنات کو ختم کر سکے۔ وہ کہتی ہیں 'جیسا کہ میں نے خلا کا سفر کیا تھا۔'

وہ خلائی سائنس میں اب پی ایچ ڈی بھی کر رہی ہے۔ عام لوگوں کے لیے اس نے اپنی کمپنی کو غیر منافع بخش بنیادوں پر شروع کیا ہے۔ اس میں 200 سے زائد محققین کام کرتے ہیں۔ وہ 53 خلائی منصوبوں کی نگرانی کر رہی ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ خلائی سفر صرف اشرافیہ کا نہ بن کر رہ جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں