اسرائیل-حزب اللہ جنگ، امریکہ کا کشیدگی کے حل کے لیے 'سفارتی راستے' پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے منگل کو لبنان کے ساتھ کشیدگی کو حل کرنے کے لیے سفارت کاری پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ اسرائیل کی جانب سے اس بیان کے بعد سامنے آیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی طے ہو جانے کے باوجود حزب اللہ کا تعاقب کرے گا۔

محکمۂ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے نامہ نگاروں کو بتایا، "ہم کسی بھی فریق کو شمال میں تنازعہ بڑھاتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔"

"اسرائیل کی حکومت نے اعلانیہ کہا ہے اور ہمیں نجی طور پر یقین دلایا ہے کہ وہ سفارتی طریقے سے مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔"

"یہی وہ طریقہ ہے جس پر ہم عمل جاری رکھیں گے اور بالآخر یہ فوجی کارروائی کو غیر ضروری بنا دے گا۔"

ملر نے مزید کہا کہ اسرائیل کو ان ہزاروں لوگوں کے ساتھ "حقیقی سلامتی کے خطرے" کا سامنا تھا جو لبنان کے قریب اپنے گھروں سے فرار ہو گئے ہیں اور انہوں نے اسے ایک "جائز مسئلہ" قرار دیا جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔"

اسرائیل اور لبنان کی شیعہ تحریک حزب اللہ جسے ایران کی حمایت حاصل ہے، سات اکتوبر سے فائرنگ کا تبادلہ کر رہے ہیں جب فلسطینی گروپ حماس نے اسرائیل کے اندر ایک بڑا حملہ کیا تھا۔

جوابی کارروائی میں اسرائیل نے حماس کے زیرِ اقتدار غزہ میں مسلسل فوجی کارروائی شروع کر دی۔

اسرائیل نے اس ہفتے لبنان کی سرزمین میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر گہرائی سے حملہ کیا جس سے ہمہ گیر جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اتوار کے روز اسرائیلی وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ نے کہا اگر جاری سفارت کاری غزہ میں جنگ بندی اور 7 اکتوبر کے یرغمالیوں کی رہائی تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے تب بھی حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

امریکی حمایت کے ساتھ فرانس اس منصوبے کو آگے بڑھا رہا ہے جس میں حزب اللہ اور اس کے اتحادی مزاحمت کار سرحد سے تقریباً 12 کلومیٹر (آٹھ میل) تک دستبردار ہو جائیں گے اور اسرائیل حملے روک دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں