اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کو محصولات کی ادائیگی دوبارہ شروع کر رہا ہے: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر خزانہ جینٹ ییلن نے کہا ہے کہ اسرائیل نے مالی معاونت اور مغربی کنارے کی معیشت کو تقویت دینے کے لیے فلسطینی اتھارٹی کو محصولات کی ادائیگی دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ییلن نے یہ بات منگل کے روز ایک نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔

فلسطینی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اوسلو معاہدے کے تحت طے پانے والی محصولات کی ادائیگی کو روکنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کئی مہینوں سے پبلک سیکٹر کی تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر ہے کیونکہ اسرائیلی وزارت خزانہ نے فنڈز کی فراہمی روک دی تھی۔

نیوز کانفرنس میں ییلن نے وزیراعظم نیتن یاہو کو لکھے گئے ایک خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا 'وزیراعظم نیتن یاہو پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے 'ورک پرمٹ' بحال کریں اور مغربی کنارے میں حائل تجارتی رکاوٹوں کو کم کریں۔'

خیال رہے کہ ییلن نے خط کی کاپی جاری کرنے سے انکار کر دیا اور خط سے متعلق مزید کوئی تفصیل بھی نہیں بتائی۔ نہ ہی یہ بتایا گیا کہ یہ خط وزیر اعظم نیتن یاہو کو کب لکھا گیا تھا۔

امریکہ وزیر خزانہ ییلن نے کہا 'فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی معاشی بہبود کے لیے یہ اقدامات یکساں طور پر اہم ہیں۔ صدر جوبائیڈن کے جاری کردہ 'ایگزیکٹیو آرڈر' کے بعد سے مغربی کنارے کی معیشت کو مضبوط کرنے کے آُپشنز کی تلاش جاری ہے۔'

ییلن نے کہا کہ عالمی بنک کی طرف سے غزہ میں خوراک کی ہنگامی مدد اور مغربی کنارے کے لیے معاشی امداد کی واشنگٹن نے حمایت کی ہے۔

علاوہ ازیں علاقائی و ترقیاتی بنک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مصر اور اردن میں جاری قرضہ پروگراموں کی بھی حمایت کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں