اسرائیل کے جنگی مؤقف کو امریکہ کی وسیع حمایت حاصل ہے: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے منگل کو کہا کہ انہوں نے غزہ جنگ کو قبل از وقت ختم کرنے کے لیے مسلسل دباؤ کا مقابلہ کیا ہے اور ہمارے اس مؤقف کو امریکہ کی مقبول حمایت حاصل ہے جو حماس پر مکمل فتح تک مہم جاری رکھنے میں ہماری مدد کرے گی۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک تبصرے میں اسرائیل کی سخت دائیں بازو کی حکومت کو بین الاقوامی حمایت سے محروم کرنے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ نیتن یاہو نے ایک سروے کا حوالہ دیا جس میں دریافت ہوا کہ 82 فیصد امریکی حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے اس بیان کو جو بائیڈن کے تبصرے کا جواب سمجھا جا رہا ہے۔

رات گئے ایک ٹاک شو میں نشر ہونے والے ریمارکس میں بائیڈن نے کہا، اسرائیل پہلے ہی رمضان المبارک کے لیے غزہ میں لڑائی روکنے پر راضی ہو چکا ہے جو کہ 10 مارچ سے شروع ہونے والا ہے۔

بائیڈن نے این بی سی کے "لیٹ نائٹ ود سیٹھ میئرز" شو میں کہا، "رمضان آ رہا ہے اور اسرائیلیوں کی طرف سے ایک معاہدہ ہوا ہے کہ وہ رمضان کے دوران فوجی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں گے اور ساتھ ہی اس کی یہ وجہ بھی ہے کہ ہمیں تمام یرغمالیوں کو نکالنے کے لیے وقت مل جائے۔"

اس سے قبل پیر کو بائیڈن نے امید ظاہر کی کہ 4 مارچ تک جنگ بندی کا معاہدہ طے ہو جائے گا: "میرے قومی سلامتی کے مشیر نے مجھے بتایا کہ وہ معاہدے کے قریب ہیں۔ وہ قریب ہیں۔ معاہدہ ابھی ہوا نہیں ہے۔ مجھے امید ہے کہ اگلے پیر تک ہم جنگ بندی کر لیں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں