سعودی عرب میں ماحول دوست نیا ایندھن کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں توانائی کی حکمت عملیوں کے ماہرانجینیرنایف الدندنی نےانکشاف کیا کہ ’یورو 5‘جسے وزارت توانائی نے شروع کیا تھا جو یورپی اخراج کا معیار ہے۔ اس اخراج کی شرح کو منظم کرنے کے لیے قانون سازی کی گئی تھی جس کے بعد ان معیارات میں سے پہلے معیار کا اعلان 1992ء میں یورو 1 کےطور پر کیا گیا۔ یورو 5 کوستمبر 2009ء منظور کیا گیا جب کہ یورو 6 کو 2014 میں اور یورو 7 کا اعلان 2025ء میں متوقع ہے"۔

سعودی وزارت توانائی کی جانب سے مملکت کی مارکیٹ میں موجود ڈیزل اور پٹرول ایندھن کے بجائے کلین "یورو 5" ڈیزل اور پٹرول ایندھن کے اجراء کی تکمیل کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

الدندانی نے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہرمعیار کاروں اور مینوفیکچررز کے لیے اخراج کی کچھ فیصد کی ضرورت ہوتی ہے جس میں نائٹروجن آکسائیڈ، ہائیڈرو کاربن آکسائیڈ، نان میتھین ہائیڈرو کاربن آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ ہیں جیسی دہاتیں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ڈیزل اور پٹرول (یورو 5) صارفین کے لیے دستیاب ہوں گے پٹرول اور ڈیزل جو یورو 5 کے معیار اور ضروریات سے ہم آہنگ ہیں نقل و حمل کے تمام ذرائع کے لیے موزوں ہیں۔ ایندھن کی یہ قسم معاشرے اور ماحولیات کے لیے مفید ہے۔ یہ انتہائی موثر اور کم کاربن کے اخراج والے ایندھن کا حصہ ہے اور سرکلر کاربن اکانومی اپروچ کےطور پر لاگو کی گئی ہے۔

ایندھن کی یہ قسم موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے، توانائی کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور کار مینوفیکچررز کو مملکت میں درآمد کی جانے والی کاروں میں توانائی کی بچت کی جدید ترین ٹیکنالوجیز متعارف کرانے کی ترغیب دینے میں مدد ملے گی۔

ماحولیاتی تحفظ

انہوں نے زور دے کر کہا کہ "سعودی عرب نے ڈیزل اور پٹرول کو (یورو 5) میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ وہ ماحول کے تحفظ اور سعودی ویژن 2030 اور گرین سعودی عرب کے اہداف کو حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں"۔

توانائی کی وزارت نے بتایا کہ ان دو مصنوعات کا اجرا مملکت کی کوششوں کے تحت کیا گیا ہے جس کا مقصد کاربن کے اخراج کو کم کرنا ہے۔ یہ 2060ء میں سرکلر کاربن اکانومی اپروچ کو لاگو اور کاربن کے اخراج کو صفرکرنے کے مملکت کے اہداف کا حصہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں