سعودی کپ کے فاتح کو پیش کیے گئے ’بشت البیدی‘ میڈل کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حال ہی میں سعودی عرب میں ایک مقابلے کے فاتح کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ہاتھوں ’بشت البیدی‘ کے نام سے ایک میڈل عطا کیا گیا۔ اس کےبعد اس میڈل کے چرچے ہیں اور اس کی اہمیت اور اسے تیار کرنے کے بارے میں تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

سعودی عرب کے ’رائل انسٹی ٹیوٹ آف ٹریڈیشنل آرٹس‘ "ورث " نے سعودی کپ کے فاتح کو "بشت البیدی" کے نام سے ایک تمغہ پیش کیا۔ یہ تمغہ انسٹی ٹیوٹ کے تربیت یافتہ کاریگروں کی طرف سے تیار کرنے میں 65 گھنٹے لگے جب کہ اس کے ڈیزائن میں سعودی عرب کے ثقافتی تنوع اور قومی شناخت کو مجسم کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق انسٹیٹیوٹ نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ ’بشت البیدی‘ کو قدرتی اون کے دھاگوں اور ہاتھ کی کڑھائی سے تیار کیا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس ٹکڑے میں ’البیدی بشت‘ کے کندھوں پر بنی شکلوں سے اخذ کردہ نمایاں تکون شامل ہیں۔ اسے السدو سے قدرتی اون کے دھاگوں سے بُنا جاتا ہے اور اسے زری دھاگوں سے بنی پن کے ساتھ جوکھا کی سجاوٹ کی شکل میں لٹکایا جاتا ہے جب کہ میڈیل کی بنیادی میڈل کی بنیاد پتھرسے بنی ہے۔

رائل انسٹی ٹیوٹ نے اس کام کی ایک وضاحتی ویڈیو شائع کی جس میں نجد کے شہری فن سے استفادہ کرنے کا طریقہ دکھایا گیا۔اس میڈل کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے پیش کیے جانے کے بعد بہت اس میڈیل کو پذیرائی حاصل ہوئی۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ "ورث" میں فنکارانہ تحائف اور میڈل پیش کیے گئے۔ انسٹی ٹیوٹ نےاس سے قبل مقامی ثقافت کی گہرائی سے اخذ کردہ مخصوص تحائف پیش کیے ہیں۔ کبوترکے مینار سعودی افریقی سربراہی اجلاس کے مہمانوں کو پیش کیے گئے تھے جسے"البشت الحساوی" کہا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں