’’طبی انخلاء کے دوران اسرائیلی فوج نے طبی عملے کو برہنہ ہونے پر مجبور کیا گیا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں طبی انخلاء کے قافلے کو روکا۔ قافلے اور اس میں موجود افراد کی تلاشی لی، طبی عملے کے ایک کارکن کو حراست میں لے لیا اور دوسروں کو اپنے کپڑے اتارنے پر مجبور کیا گیا۔

دفتر نے مزید کہا کہ یہ شرمناک واقعہ اتوار کو اس وقت پیش آیا جب شہر کے الامل ہسپتال سے 24 مریضوں کو نکالا جا رہا تھا۔ اسرائیلی فوج نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن کہا ہے کہ وہ دفتر کی طرف سے فراہم کردہ تفصیلات کی تصدیق کر رہی ہے۔

امدادی اداروں اور فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائی کے دوران ہسپتال کا کمپلیکس محاصرے میں لیا گیا ہے۔

دفتر کے ترجمان جینس لایرکے نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ "تمام ملازمین اور گاڑیوں کے حوالے سے اسرائیلی فریق کے ساتھ پیشگی رابطہ کاری کے باوجود اسرائیلی فورسز نے عالمی ادارہ صحت کی قیادت میں ایک قافلے کو ہسپتال سے نکلتے ہی کئی گھنٹوں تک روک دیا"۔

غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی کے مناظر
غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی کے مناظر

انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیلی فوج نے مریضوں اور عملے کو ایمبولینسوں سے زبردستی باہر نکال دیا اور تمام طبی عملے کو برہنہ کر دیا"۔

انہوں نے کہا کہ "فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے تین طبی عملے کو بعد میں حراست میں لے لیا گیا حالانکہ ان کا ذاتی ڈیٹا اسرائیلی فورسز کے ساتھ پہلے سے شیئر کیا گیا تھا"۔

انہوں نے بتایا کہ پیرامیڈیکس میں سے ایک کو بعد میں رہا کر دیا گیا اور باقی دو دیگر تمام زیر حراست ہیلتھ ورکرز کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

اسرائیل نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کو کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور حماس کے جنگجوؤں پر ہسپتالوں میں شہریوں کے درمیان چھپنے کا الزام لگایا تھا تاہم حماس نےان الزمات کی سختی سے تردید کی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں 1200 افراد کو ہلاک اور 253 کو حراست میں لیا تھا۔

یہ حملہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی مہم کے آغاز کے بعد کیا گیا۔ غزہ میں صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشن کے دوران تقریباً 30,000 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

لائیرکے نے کہا کہ اتوار کا واقعہ امدادی قافلوں پر فائرنگ، انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو ہراساں کرنے، ڈرانے اور حراست میں لینے اور انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے کارکنوں کو خوف زدہ کرنے کی ایک نئی اسرائیلی کوشش ہے۔

اسرائیل نے اس سے قبل امداد کو داخل ہونے سے روکنے کی تردید کی تھی۔

فلسطینی حکام اور اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق مصر سے غزہ کے لیے امداد کا بہاؤ کم ہو گیا ہے اور خوراک کی تقسیم مزید مشکل ہو گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں