متحدہ عرب امارات کے ساتھ سرمایہ کاری معاہدے کے بعد مصر میں منصوبوں کی تیاری شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر نے شرم الشیخ کے نزدیک وسیع ساحلی قطعہ اراضی پر متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری کے ساتھ نئے منصوبوں کی تیاری شروع کر دی ہے۔ یہ بات مصری ذمہ دار نے بتائی ہے۔

مصر کے حکومتی ترجمان منصور عبدالغنی نے بتایا کابینہ کے فیصلے کے نتیجے میں ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ جس کا کام زمین پر موجود حقائق کی تحقیق اور اس کے لیے ایک سٹریٹیجک ویژن کی تیاری تھی۔ تاکہ سمندر کے نزدیک پڑے وسیع قطعہ اراضی کو استعمال میں لایا جا سکے۔ منصور عبدالغنی ایک ٹی وی شو میں بات کر رہے تھے۔

ترجمان کے مطابق نئے منصوبوں کے لیے زمین کی یہ تیاری صرف راس الجمیلہ کے حوالے سے نہیں بلکہ اس کے آس پاس کے علاقوں میں بھی کئی جگہوں پر کام شروع کیا جا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کام کے لیے مصر آئندہ دنوں مشیر بھی متعین کرے۔ کہ اس خالی پڑی زمین سے کس طرح زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے شمالی افریقہ کا بڑا ملک مصر ان دنوں مالی بحران کا شکار ہے اور اس کے اخراجات کی وجہ سے بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں مصر نے اپنے ریاستی اثاثے بیچ کر مالی بحران پر قابو پانے کی کوشش شروع کر رکھی ہے۔ تاکہ گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دے سکے۔ مصری معیشت کے ان برے حالات میں متحدہ عرب امارات نے 24 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں مصری ساحل کی نزدیکی جگہ کو بڑے 'ریزارٹ' کی شکل میں آباد کیا جائے گا۔

اس 24 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری معاہدے کے علاوہ بھی متحدہ عرب امارات 11 ارب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کرے گا۔ جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ مصر کو ایک مختصر مدت کے لیے اچھی مدد مل جائے گی کہ وہ اپنی گرتی ہوئی معیشت کو سنبھال سکے۔

سرکاری طور پر کہا گیا ہے کہ مصری حکومت نے ان نئے منصوبوں کے لیے 170 مربع ملین میٹر کی جگہ مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ساری زمین مختلف سرکاری اداروں کے کنٹرول میں ہے۔ جن میں فوج اور 'نیو اربن کمیٹی فار کنسٹرکشن' کی ملکیت شامل ہے۔ واضح رہے متحدہ عرب امارات کا یہ منصوبہ بحر متوسط کے ساتھ جڑا ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں