مصری پولیس نے جیولر کا قاتل چوبیس گھنٹے کے اندر گرفتار کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری پولیس نے قاہرہ میں ایک جیولر کو قتل کرنے میں ملوث ملزم کو چو بیس گھنٹے سے کم وقت میں گرفتارکرلیا۔

مصر میں قاہرہ گورنری میں سکیورٹی سروسز نے بلق ابو العلا جیلری کے مالک خواجہ حسنی الخناجری کو قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد اسے سخت حفاظتی پہرے میں پولیس اسٹیشن منتقل کیا ہے جہاں اس سے تفتیش جاری ہے۔ پوچھ گچھ کے بعد ملزم کو پراسکیوٹر کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

پبلک پراسیکیوشن نے جیولر بلاق ابو العلای کے قتل اور اس کی دکان میں ڈکیتی کے واقعے کی وسیع تحقیقات شروع کردی ہیں۔ مسروقہ سامان کی قیمت کا اندازہ لاکھوں مصری پاؤنڈز میں لگایا گیا ہے۔

تفتیشی حکام کی جانب سے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا گیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے جائے وقوعہ پر چھاپہ مارا جہاں پولیس کو الخواجہ حسنی الخناجری کے نام سے مشہور جیولر کی لاش ملی جبکہ اس کی دکان سے لاکھوں پاؤنڈ مالیت کے زیورات بھی چوری کرلیے گئے تھے۔

ایک سکیورٹی ذریعہ نے سوشل میڈیا پر آنے والی ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا جن میں کہا گیا تھا کہ سونار کو لوٹنے میں چھ نقاب پوش افراد ملوث تھے۔

وزارت داخلہ نے کل منگل کی شام ایک بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک اور شخص کی تصویر پوسٹ کی گئی ہے جو 2021ء میں ایک غیر ملکی شاپ لفٹنگ کے واقعے کی ہے۔اس تصویر کا جیولر سے کوئی تعلق نہیں۔

پبلک پراسکیوٹر نے اس کیس میں پڑوسی دکانداروں اور مقتول کے اہل خانہ کے بیانات سنے اور ان کے بیانات کی روشنی میں ملزم کے خلاف کارروائی کی گئی۔

بلاق ابو العلا زیورات کی ایک مشہور دکان کے مالک خواجہ حسنی الخناجری کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب ایک شخص نے سٹور میں گھس کر سٹور میں موجود ایک ورکر سے سگریٹ کا پیکٹ خریدنے کو کہا۔ جب وہ واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ دکان کا مالک قتل ہوچکا ہے اور دکان میں سامان بکھرا پڑا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں