’دسویں جماعت کے بیشتر طلباء لکھ پڑھ نہیں سکتے‘: اردنی وزیر کا انوکھا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کے وزیر تعلیم ’عزمی محافظہ‘ نے دعویٰ کہا ہے کہ اردن کے اسکولوں میں میٹرک کے بعض طلباء پڑھنا لکھنا نہیں جانتے۔ ان کے اس بیان پر شدید رد عمل سامنےآیا ہے اور شہریوں نے اس پر سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

اردنی وزیر تعلیم کا یہ بیان انٹرنیشنل افیئرز ایسوسی ایشن میں ایک تقریب سے خطاب میں سامنے آیا۔ انہوں نے طلباء کو بنیادی تعلیم سے بے دخل کرنے سے روکنے کی پالیسی کی وجہ سے قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ طلباءؑ کو نہیں نکالنا چاہیے چاہے وہ لکھنا پڑھنا ہی کیوں کہ جانتئے ہوں۔

ایک سال کی فیس

اردنی وزیر المحافظہ نے کہا کہ اردن میں تعلیمی نظام ایک طالب علم کوایک سال کے لیے ایک گریڈ میں فیل ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ اس لیے وہ تعلیمی سال کو صرف دو بار دہراتے ہیں۔ پھر خود بخود اگلے گریڈ یعنی دسویں جماعت میں ترقی پا جاتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ انہیں ذاتی طور پر ایک بین الاقوامی مطالعہ کرنے کے بعد اسکولوں میں ان طلباء کی موجودگی کا علم ہوا کہ میٹرک کے کچھ طلباء پڑھ یا لکھ نہیں سکتے۔

تعلیم میں ایک نیا مسئلہ

عزمی المحافظہ نے ایک نئی پریشانی کا بھی انکشاف کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ اردن میں محکمہ تعلیم اس وقت کلاس کے مقابلے میں ایک بڑے مسئلے سے گزر رہا ہے۔ یہ مسئلہ مغربی تعلیم کا ہے کیونکہ بہت سے طلبا عربی نہیں بولتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ رجحان سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے درمیان کلاس ازم سے زیادہ مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت تعلیم کے پاس تعلیمی ترقیاتی منصوبے میں سب سے اہم پروگرام اساتذہ کی تربیت ہے۔

انہوں نے مقامی اور عالمی سطح پر اسکول چھوڑنے کی بلند شرح کا بھی انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وبا کے بعد دنیا میں اسکول چھوڑنے اورغفلت کی شرح 25 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں