اسرائیل-حماس تنازعےمیں تمام فریقین جنگی جرائم کےمرتکب ہوئے: وولکر ترک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیل-حماس تنازع میں تمام فریقین نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور انہوں نے ان جرائم کی تحقیقات اور ذمہ داروں سے جواب طلبی کا مطالبہ کیا ہے۔

ترک نے جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بتایا، "بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قوانین کی واضح خلاف ورزیاں بشمول جنگی جرائم اور ممکنہ طور پر بین الاقوامی قوانین کے تحت دیگر جرائم کا ارتکاب تمام فریقین نے کیا ہے۔"

"امن، تحقیقات اور احتساب بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔"

حماس کے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے نتیجے میں اسرائیل نے جوابی حملہ کیا جس کا مقصد اسرائیل کے مطابق بقیہ یرغمالیوں کو بچانا اور حماس کو ختم کرنا ہے۔ غزہ میں صحت کے حکام کے مطابق اسرائیلی کارروائی کے دوران تقریباً 30,000 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

ترک جو غزہ اور اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر رپورٹ پیش کر رہے تھے، نے کہا کہ ان کے دفتر نے "بہت سے ایسے واقعات ریکارڈ کیے ہیں جو اسرائیلی افواج کے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔"

انہوں نے کہا ایسے اشارے بھی ملے ہیں کہ اسرائیلی افواج بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے "اندھا دھند یا غیر متناسب ہدف بنانے" میں مصروف ہیں۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم از کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

ترک نے کہا فلسطینی مسلح گروپ جنوبی اسرائیل میں اندھا دھند میزائل داغ رہے ہیں اور یرغمال بنائے رکھنا بھی بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

گذشتہ ماہ ہیگ میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) نے اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی کارروائیوں کو روکے اور شہریوں کی مدد کے لیے مزید اقدامات کرے اگرچہ جنگ بندی کا حکم دینے کے لیے اس کے ارکان کی تعداد پوری نہ تھی۔

ترک نے کہا کہ جنوبی سرحدی قصبہ رفح جہاں ایک اندازے کے مطابق تقریباً 1.5 ملین لوگ اپنے گھروں سے فرار ہونے کے بعد مزید شمال میں اسرائیلی جارحیت سے بچنے کے لیے پناہ لیے ہوئے ہیں، وہاں اسرائیلی زمینی حملے کا امکان "غزہ کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے خوفناک مظالم کو ایک نئی ڈسٹوپین جہت کی طرف لے جانے کا سبب ہو گا۔"

انہوں نے کہا، "اپنی طرف سے میں یہ دیکھنے سے قاصر ہوں کہ اس طرح کی کارروائی بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے جاری کردہ پابند عارضی اقدامات کے مطابق کیسے ہو سکتی ہے۔"

ترک نے مزید کہا کہ اس طرح کی زمینی کارروائی سے بڑے پیمانے پر جانوں کا ضیاع ہوگا، مظالم کے جرائم کا خطرہ بڑھے گا، مزید نقلِ مکانی کو مہمیز ملے گی اور "مؤثر انسانی امداد کی کسی امید کے لیے یہ گویا موت کے پروانے پر دستخط ہوں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں