اسرائیل رمضان میں فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت دے: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مغربی کنارے سے آنے والے نمازیوں کو رمضان کے مہینے کے دوران بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ تک رسائی کی اجازت دے۔

امریکہ کی طرف سے یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کے انتہا پسند وزیر ایتمار بن گویرنے کہا ہے کہ فلسطینیوں رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ میں داخلے سے روکا جائے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھو ملر نے مسجد اقصیٰ کے یہودی [عبرانی] نام کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اسرائیل سے رمضان کے مہینے کے دوران پرامن عبادت گذاروں کے لیے (جبل ہیکل) تک رسائی کی سہولت فراہم کرنے پر زور دیتے ہیں رہیں گے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ نہ صرف صحیح کام ہے اور اس کا تعلق نہ صرف لوگوں کو مذہبی آزادی دینے سے ہے جس کے وہ مستحق ہیں اور انہیں اس کا حق ہے بلکہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے یہ براہ راست ایک اہم مسئلہ بھی ہے"۔

ملر نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ تک رسائی روکنا "مغربی کنارے اور خطے میں تناؤ کو بڑھانے کے لیے اسرائیل کے سکیورٹی کے مفاد میں نہیں ہے"۔

اسرائیل رمضان المبارک کے مہینے کے دوران مسجد الاقصی کے لیے عبادت گذاروں کے بہاؤ کے انتظام کے طریقوں کا جائزہ لیا ہے۔ رمضان کا مہینا 10 یا 11 مارچ کو شروع ہوگا۔ یہ رمضان ایک ایسے وقت میں آ رہا ہے جب سات اکتوبر کے بعد حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں