اسرائیل نےبڑی یہودی آبادی معاليه أدومیم کےقریب مغربی کنارےکی 650 ایکڑاراضی مختص کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے جمعرات کو مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک بڑی یہودی بستی کے قریب اراضی کے کئی حصے مختص کر دیئے لیکن اس فیصلے کے بارے میں بریفنگ دینے والے ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ وہاں تعمیر کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

سول ایڈمنسٹریشن جو اسرائیل کی وزارتِ دفاع کا حصہ ہے، نے ایک اعلان میں کہا ہے کہ زمین 2,640 دونم یا 652 ایکڑ رقبے پر مشتمل ہے۔ اسرائیلی ذرائع نے کہا کہ اب انہیں یروشلم کے مشرق میں واقع معاليه أدوميم آبادی کا حصہ نامزد کیا جائے گا۔

مغربی کنارہ 1967 کی شرقِ اوسط جنگ میں اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں میں شامل ہے اور جہاں فلسطینی بین الاقوامی حمایت کے ساتھ ریاست کا درجہ چاہتے ہیں۔ زیادہ تر عالمی طاقتیں ان یہودی آبادیوں کو غیر قانونی سمجھتی ہیں۔ اسرائیل مغربی کنارے کے تاریخی دعوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے اور اسے ایک حفاظتی حصار کے طور پر بیان کرتے ہوئے اس بات سے اختلاف کرتا ہے۔

وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کی مذہبی-قوم پرست حکومت نے آبادیوں کو فروغ دیا ہے جس سے امریکہ کے ساتھ تنازعہ پیدا ہو گیا ہے حالانکہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی حماس کے ساتھ اسرائیل کی جنگ میں یہ دونوں قریب ترین اتحادی ہیں۔

24 فروری کو امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ مغربی کنارے کی بستیوں کو بین الاقوامی قانون سے متصادم تصور کرتے ہوئے واشنگٹن اس امریکی مؤقف پر واپس لوٹ گیا ہے جسے اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے الٹ دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں