تل ابیب : یرغمالیوں کے اہل خانہ نے چار روزہ مارچ کا اعلان کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل میں موجود یرغمالیوں کے خاندانوں اور دوستوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے عزیزوں کی غزہ سے رہائی کے لیے چار دنوں پر مشتمل احتجاجی مارچ کریں گے۔ یہ احتجاجی مارچ جنوبی غزہ سے شروع ہو کر بیت المقدس تک ہوگا۔ اس دوران اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اسرائیلی یرغمالیوں کو غزہ میں حماس کے قبضے سے جلد سے جلد رہائی دلوائے۔

یرغمالی اسرائیلیوں کے لواحقین کی طرف سے اس چار روزہ احتجاجی مارچ کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یرغمالیوں کو حماس کی قید میں تقریباً پانچ ماہ ہونے والے ہیں اور قطر میں اس سلسلے میں ہونے والے مذاکرات سے توقع کی جا رہی ہے کہ کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کر دے گا۔

امریکی صدر جو بائیڈن کے مطابق اس طرح کا معاہدہ بہت قریب ہے لیکن اسرائیلی حکام اور حماس صدر جوبائیڈن کی پر امیدی پر شکوک رکھتے ہیں۔

واضح رہے امریکہ، مصر اور قطر کی طرف سے مذاکرات میں اس بارے میں مسلسل باہم بات چیت کر رہے ہیں کہ حماس اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر آمادہ ہوجائے اور اس کے بدلے میں اسرائیل چھ ہفتوں کے لیے جنگ بندی کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کرے۔

اس سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ ایک یرغمالی کے بدلے میں 10 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا فارمولہ زیر غور ہے۔ جبکہ اس عارضی جنگی وقفے کے دوران مذاکرات میں بقیہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بھی آپس میں بات چیت جاری رکھیں گے اور کوئی قابل عمل تجاویز مرتب کریں گے۔

غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کی وجہ سے انسانی بحران کا سامنا ہے۔ 23 لاکھ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیل بمباری کی وجہ سے فلسطینیوں کے گھر، سکول اور ہسپتال مکمل تباہ ہوگئے ہیں۔ اب تک 30 ہزار فلسطینی ہلاک اور 70 ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔ جبکہ رفح میں 14 لاکھ فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں