رفح پراسرائیلی حملہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے کے خلاف قرار پائے گا : وولکرترک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ وولکر ترک نے کہا ہے ' اسرائیل کا غزہ کے انتہائی جنوبی اور سرحدی شہر رفح پر حملے کا منصوبہ اقوام متحدہ کی سب سے بڑی عدالت کی طرف سے دیے گئے حالیہ فیصلے کی خلاف ورزی قرار پائے گا۔ انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ انسانی حقوق کونسل سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا 'میں اس میں اپنے آپ کو ناکام محسوس کرتا ہوں کہ اس طرح کی اسرائیلی جنگی یلغار کیونکر اس دائرہ کار کے اندر ہو سکتی ہے جو بین الاقوامی عدالت انصاف نے طے کیا ہے۔' واضح رہے بین الاقوامی عدالت انصاف نے 26 جنوری کو جنوبی افریقہ کی دائر کردہ درخواست پردیے گئے فیصلے میں اسرائیل کوغزہ میں جنگ سے روکنے سے تو گریز کیا تھا مگر یہ ضرور کہا تھا کہ فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کے لیے نسل کشی کنونشن کے مطابق تمام ممکنہ اقدامات کرے۔

اس فیصلے میں بین الاقوامی عدالت نے یہ بھی کہا ' غزہ میں انسانی بنییادوں پر امداد کی فراہمی کا فوری اہتمام کرے۔ یہ حکم غزہ کو اسرائیل کی طرف مسلسل محاصرے میں رکھنے اور اندھا دھند بمباری کی وجہ سے امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹوں کی وجہ سے دیا گیا۔ جس نے غزہ میں تقریباً قحط کی صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک جائزے کے مطابق غزہ کے 5 لاکھ 76 ہزار لوگ قحط زدگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

وولکر ترک نے کہا ہے کہ اسرائیل کا رفح پر حملہ ایک ڈراؤنا خواب ہوگا اور جو غزہ میں لوگوں کو ایک نئی مصیبت میں ڈال دے گا۔ ترک کا یہ بیان اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اتوار کے روز سامنے آنے والے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج رفح پر جلد چڑھائی کرے گی۔ جہاں اس وقت 14 لاکھ فلسطینی غزہ کے دوسرے علاقوں سے بےگھر ہو کر پناہ لینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس حملے کو بھی بلاجواز اور خوفناک قرار دیا۔ اس حملے کے بعد تب سے اب تک 30 ہزار سے زائد فلسطینی شہری اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل کیے جا چکے ہیں.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں