شام اور لبنان کی سرحد کے قریب اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کا رکن ہلاک: مانیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک جنگی مانیٹر نے کہا کہ اسرائیل نے لبنان کی سرحد کے قریب شام پر حملے میں حزب اللہ کے ایک رکن کو ہلاک کر دیا اور اسی طرح کے حملوں کے چند گھنٹے بعد جمعرات کو دمشق کے قریب بھی حملہ کیا۔

حزب اللہ کا شام کے ساتھ لبنان کی مشرقی سرحد اور اس کے ساتھ سرحد کے دوسری جانب کچھ علاقوں بشمول قصیر پر بہت زیادہ اثر و رسوخ ہے جو جمعرات کے حملے کا ہدف تھا۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن نے کہا، "شام-لبنان سرحد کے قریب قصیر کے علاقے میں ایک ٹرک پر اسرائیلی ڈرون حملے میں حزب اللہ کا ایک رکن مارا گیا۔"

برطانیہ میں قائم شدہ اور شام کے اندر خبری ذرائع کے نیٹ ورک کے حامل ادارے مانیٹر نے کہا کہ اسی وقت اسرائیلی حملوں نے دمشق کے قریب شام کے فضائی دفاع اور ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔

دمشق میں اے ایف پی کے نامہ نگار نے دور دراز علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی۔

شام کے سرکاری میڈیا نے ان حملوں کی اطلاع نہیں دی۔

حزب اللہ اور ایران کے حمایت یافتہ دیگر گروپ خانہ جنگی شروع ہو جانے کے بعد شامی صدر بشار الاسد کی افواج کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔

2011 میں شام کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل نے اپنے شمالی ہمسایہ کے خلاف سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں جن میں بنیادی طور پر ایران نواز افواج کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں لبنان کی حزب اللہ اور شامی فوج شامل ہے۔

لیکن اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس کے درمیان تقریباً پانچ ماہ پرانی جنگ کے دوران حملوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

آبزرویٹری نے کہا تھا کہ بدھ کی شام اسرائیل نے دمشق کے قریب حملہ کیا جس میں دو شامی حزب اللہ نواز ارکان مارے گئے۔

آبزرویٹری ہی کے مطابق گذشتہ ہفتے شام میں لبنانی سرحد کے قریب ایک ٹرک پر اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے دو ارکان ہلاک ہو گئے۔

اسرائیل شاذ و نادر ہی انفرادی حملوں پر تبصرہ کرتا ہے لیکن بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ ایران کو شام میں اپنی موجودگی بڑھانے کی اجازت نہیں دے گا۔

شام کی جنگ مارچ 2011 میں دمشق کے حکومت مخالف مظاہروں کے وحشیانہ جبر کے ساتھ شروع ہونے کے بعد سے اب تک نصف ملین سے زیادہ لوگوں کی جانیں لے چکی ہے اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں