غزہ میں 30 ہزار سے زائد فلسطینی قتل، ایک ماہ میں چھ ہزار ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں وزارت صحت نے جمعرات کے روز فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے نئے اعداد وشمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سات اکتوبر سے اب تک مجموعی طور پر اسرئیلی بمباری سے تیس ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

واضح رہے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے پانچ ماہ مکمل ہونے کو ہیں۔ اس حوالے سے ہر ماہ اوسطاً چھ ہزار فلسطینی قتل کیے گئے ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔

دوسری جانب ثالث ممالک کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ قریب تر ہے اور اگلے چند دنوں میں یہ فیصلہ ہو جائے گا۔ اس سے پہلے امدادی ادارے یہ بار بار کہتے رہے ہیں کہ غزہ خصوصا شمالی غزہ میں قحط کا سا ماحول ہے۔

کیونکہ اسرائیل نے کئی ماہ سے غزہ کی سخت ناکہ بندی کر رکھی ہے اور امدادی سامان جنگ زدہ شہریوں تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈالے ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے بھی دو روز قبل کہا گیا ہے کہ اسرائل منظم انداز میں امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ امدادی قافلوں کو کئی کئی گھنٹے اس کے باوجود روکا جاتا ہے کہ ان قافلوں کے لیے پہلے سے اجازت حاصل کر رکھی ہوتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں بچوں سمیت بھوک اور بیماریوں سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ کیونکہ بچوں کی بڑی تعداد خوراک سے محروم ہوتی جارہی ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی اور قحط کی وجہ سے اموات کی تعداد بچوں میں زیادہ ہیں۔ ترجمان نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے مزید اموات ہونے سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

امریکہ کے امدادی ادارے ' یو ایس ایڈ ' کی ایڈمنسٹریٹر سماناتھا پاور نے 'ایکس' پر کہا ہے اسرائیل کو چاہیے مزید راہداریاں کھولے تاکہ زیادہ امدادی قافلے غزہ میں پہنچ سکیں۔کیونکہ غزہ میں وسیع پیمانے پر امدادی سامان پہنچانے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں