ہوائی جہازوں سے سامان کےگرانےسےاسرائیلی محاصرے کی مدد ہو رہی ہے، انٹرنیشنل ریفوجیزچیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں جہازوں کے ذریعے سامان گرانا اسرائیلی محاصرے کو برقرار رکھنے میں مدد کر رہا ہے۔ مزید یہ کہ اس غلط بیانیے اور تاثر کو پکا کر رہا ہے کہ اسرائیل امداد کی ترسیل میں تعاون کر رہا ہے۔ یہ بات پناہ گزینوں کے بین الاقوامی صدر نے جمعرات کے روز کہی ہے۔

یو ایس ایڈ کے سابق افسر جیریمی کونینڈک کا کہنا ہے 'جہازوں کے زریعے پھینکے جانے والا سامان نہ ہونے کے برابر امداد ہے اور یہ مدد کر رہا ہے کہ اسرائیل کی غزہ محاصرے کی حکمت عملی جاری رہے۔'

کونینڈک نے مزید کہا ' ایئر ڈراپس میں سہولت دینا اور اس کو میڈیا میں کوریج دینا عوام کے سامنے یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ اسرائیل امداد کی ترسیل میں تعاون کر رہا ہے۔'

سوشل میڈیا پوسٹ میں کونینڈک نے لکھا 'حقیقیت یہ ہے کہ انہیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس امداد کی ترسیل کی پالیسی ناکام ہوئی ہے۔' واضح رہے 21 فروری کو برطانیہ اور اردن نے چار ٹن امدادی سامان جس میں ادویات ، خوراک اور ایندھن شامل تھا شمالی غزہ کے ہسپتال تل الحوا کے لیے فضا سے پھینکا تھا۔ یہ سامان اردنی ایئرفورس کے جہازوں نے پھینکا تھا۔

اسرائیلی فوج نے انتہائی گنجان آباد غزہ کی پٹی پر جنگ کے دوران ہزاروں لوگوں کو قتل کیا ہے۔ لاکھوں کو بےگھر کیا ہے، تقریباً تمام غزہ کی آبادی نقل مکانی پر مجبور ہوگئی ہے۔ لیکن اس کی امداد کے لیے فروری کے دوران جو امدادی سامان ان لوگوں کو ملا ہے وہ جنوری سے بھی آدھا رہ گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ جنوبی غزہ میں امدادی سامان کے 160 پیکٹ ڈراپ کیے گئے۔ یہ سامان اردن کے فیلڈ ہسپتال کے لیے تھی۔ اس میں خوراک بھی شامل تھی، ادویات اور طبی آلات بھی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ امریکہ، اسرائیل، متحدہ عرب اماارت، اردن، مصر اور فرانس کے مشترکہ مشن کی ایک کارروائی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں