یہودی بستیوں میں توسیع کے اسرائیلی منصوبے سے امریکی لہجہ تبدیل ہوگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل جس نے پچھلے ہفتے مغربی کنارے کی یہودی بستیوں میں ہزاروں نئے مکانوں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ اس کے اسی اعلان نے جو بائیڈن انتظامیہ کو اس جانب دھکیلا کہ وہ ان یہودی تعمیرات کو بین الاقوامی قوانین سے متصادم قرار دے۔ یہ بات بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو امریکی حکام سے جڑے ہوئے ذرائع نے بتائی ہے۔

اس سے پہلے امریکہ بڑی احتیاط کے ساتھ اپنی پالیسی کا ذکر کر رہا تھا۔ لیکن اسرائیلی منصوبہ سامنے آنے پر امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ 'یہ امریکہ کی طویل عرصے سے پالیسی تھی کہ یہودی بستیاں ایک پائیدار حل کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرتی رہیں گی۔ اس پر ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز دونوں یکساں رائے رکھتے تھے۔ کیونکہ دونوں اس بات پر متفق تھے کہ اسرائیلی یہودی بستیاں بین الاقوامی قانون کے مطابق نہیں ہیں۔'

اس پس منظر میں پالیسی کی تبدیلی کی خواہش کافی عرصے سے چلی آرہی تھی لیکن اب حتمی فیصلہ محض گھنٹوں میں سامنے آگیا۔ جس کی وجہ سے بہت سارے حیران ہوئے اور انہوں نے سوال اٹھائے کہ اس قدر جلدی یہ تبدیلی کیوں لائی گئی اور اس کے لیے یہی وقت کیوں منتخب کیا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے دور کی اختیار کردہ پالیسی کو بدل دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹے پہلے تک امریکی وزیر خارجہ بلنکن کے سامنے ایسا کوئی منصوبہ نہیں تھا کہ وہ یہودی بستیوں کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کی پالیسی سے ہٹ کر کوئی بات کریں گے۔ حتیٰ کہ جمعہ کے روز والی پریس کانفرنس بھی طے شدہ تھی۔ لیکن اسرائیلی وزیر خزانہ بذالیل سموتریچ کی طرف سے یہودی آبادکاروں کے لیے 3300 مکان بنانے کے اعلان پر یہ رد عمل فوری طور پر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق یہ مناسب وقت تھا کہ امریکہ اپنے لہجے میں تبدیلی لائے۔ کیونکہ اس بارے میں امریکی انتظامیہ یقیناً کچھ عرصے سے سوچ رہی تھی اور اسرائیلی وزیر خزانہ کے اعلان نے یہ واضح کردیا کہ یہی وہ وقت ہے جب پالیسی میں اس تبدیلی کا اعلان ہونا چاہیے۔ تاہم اسرائیل نے اپنے یہودی بستیوں کے تعمیراتی منصوبے کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ حتیٰ کہ منگل کی رات وزیر خزانہ سموتریچ نے نئی یہودی بستی کی تعمیر کا اعلان کیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ آئندہ دنوں بھی پورے اسرائیل میں یہودی بستیوں کی تعمیرات کے منصوبے بنتے رہیں گے۔

امریکی پالیسی میں یہ تبدیلی آنے سے امریکہ ایک بار پھر دنیا کے ان اکثریتی ملکوں کے ساتھ شامل ہوگیا ہے جو مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے شروع سے خلاف رہے ہیں۔ واضح رہے مغربی کنارے پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں قبضہ کیا تھا۔ اب یہ سوال بھی اٹھنا شروع ہوجائے گا کہ امریکہ ٹرمپ دور میں اپنے سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے اعلان پر اب بھی کاربند رہے گا یا اسے بھی تبدیل کر دے گا۔

امریکی ذرائع کے مطابق جنوری 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد جوبائیڈن انتظامیہ نے پوری کوشش کی کہ وہ ٹرمپ دور کی اسرائیل پالیسی کے لہجے میں ہی بات کریں اور اسی کو جاری رکھیں لیکن انتظامیہ کے سینیئر ممبران کی طرف سے اس میں رکاوٹ آتی رہی اور انتظامیہ کو اس سلسلے میں ناکامی رہی۔

امریکی انتظامیہ کا تازہ فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہے اور نیتن یاہو اسرائیلی لیڈر کے طور پر حالیہ جنگ کے دوران صدر جوبائیڈن کے لیے مشکل صورتحال میں اضافہ کرتے رہے ہیں۔

امریکہ کی طرف سے اس رائے کے باوجود کہ اسرائیل کو غزہ پر قبضہ نہیں کرنا چاہیے، اسرائیل کی طرف سے یہی کہا جاتا رہا ہے کہ وہ اس انتہائی گنجان آباد پٹی پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا تاکہ ہمیشہ کے لیے جنگ ختم ہوجائے۔ نیتن یاہو نے امن معاہدے سے بھی ہمیشہ انکار کیا جس کے تحت اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کا وجود بھی ممکن ہوسکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں