"بقاء کی جنگ" کیا حماس زمین پراپنی حکمت عملی بدل رہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان 10 یا 11 مارچ کو رمضان کے آغاز سے قبل جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوششوں کے باوجود غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ یحییٰ السنوار کے بھائی محمد کی قیادت میں تحریک حماس کے عسکری ونگ نے گذشتہ نومبر میں مختصر مدت کے لیے نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اپنے روزمرہ کے ہتھکنڈوں کو بدل کر زمین پر ایک مختلف کھیل کھیلنا شروع کیا ہے۔

بڑی لڑائیوں سے گریز

حماس کے جنگجو اب بندوق کی بڑی لڑائیوں سے بچنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ بڑی کارروائیوں کے بجائے چھوٹے پیمانے پر گھات لگا کر حملے کرتے ہیں۔ راکٹ سے چلنے والے دستی بموں سے لے کر قیدیوں کی آوازوں کو ریکارڈ کرنے تک اسرائیلی فورسز کو جال اور گھات لگا کر گھات جال میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق اگرچہ گوریلا کارروائیاں اسرائیلی بکتر بند ہتھکنڈوں کے خلاف علاقے میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھنے کا ذریعہ نہیں ہوسکتیں مگر یہ حماس کی محدود صلاحیتوں اور جنگ کے السنوار کے ہدف کے مطابق بنائے گئے ہیں۔

القسام بریگیڈز کے جنگجو
القسام بریگیڈز کے جنگجو

"بقا کی فکر"

اسرائیلی مسلح افواج کے سویلین تجزیہ کار اور یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے ایک فوجی مورخ ایال پیریلووچ نے کہا کہ "یہ بہت اچھی حکمت عملی کی منطق ہے۔ ان [حماس] کا اسٹریٹجک مقصد زندہ رہنا ہے"۔

اس تبدیلی نے حماس کے نقصانات کو کم کیا، لیکن اس سے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد میں بھی کمی آئی۔ حماس نے کئی ایسی کارروائیوں کو انجام نہیں دیاجہاں وہ انہیں نشانہ بنا سکتی تھی۔

كتائب القسام (رائیٹرز)
كتائب القسام (رائیٹرز)

انہوں نے مزید کہا کہ "ان کی حکمت عملی میں تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان کی زندہ رہنے کی ضرورت اسرائیل کو شکست دینے کی ضرورت سے زیادہ ہے"۔

گھات لگانے میں عام طور پر راکٹ سے چلنے والا دستی بم شامل ہوتا ہے، خاص طور پر یاسین 105 راؤنڈ جو کندھے سے فائر کیے جانے والے لانچر سے فائر کیا جاتا ہے، جسے حماس نے تیار کیا ہے۔یہ روسی ساختہ ہلکار ہتھیار ہے۔

جنگجوؤں میں سے ایک آر پی جی فائر کرتا ہے۔ دوسرا آدمی AK-47 خودکار رائفل اٹھائے ہوئے ہے، اور تیسرے آدمی کے پاس سوشل میڈیا کے لیے ویڈیو تیار کرنے کا کیمرہ ہے۔

اخبار کے مطابق حماس کی پروپیگنڈا ویڈیوز اکثر آر پی جی شیل کے پھٹنے کے بعد ختم ہو جاتی ہیں، جس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ہدف کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔

دستی بم اور چپکنے والے بم

حماس کے امور کے ایک محقق اور ایک سابق اسرائیلی افسر جے ایویاد نے کہا کہ دستی بم عام طور پر اسرائیلی ’مرکاوا بکتر بند‘ گاڑیوں اور ٹینکوں کو محدود نقصان پہنچاتے ہیں، لیکن وہ کم محفوظ گاڑیوں کے ساتھ ساتھ پیدل فوجیوں کے خلاف زیادہ مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔

حماس کے جنگجو گھات لگا کر کیے جانے والے حملوں میں چپکنے والا بم استعمال کرتے ہیں، جو دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ میگنیٹ یا ڈکٹ ٹیپ کے ساتھ اسرائیلی بکتر بند گاڑیوں سے چپک جاتے ہیں۔

اسرائیلی میرکاوا ٹینک۔ [اے ایف پی]
اسرائیلی میرکاوا ٹینک۔ [اے ایف پی]

اس کے علاوہ کئی اسرائیلی فوجیوں کا کہنا ہے کہ حماس غزہ بھر میں عمارتوں میں بوبی ٹریپ لگا کر اسرائیلی فورسز کو مارنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔

اسرائیلی فوجیوں نے انکشاف کیا کہ حماس کے کارکنوں کے گھروں کے ساتھ ساتھ بہت سے شہریوں کے گھروں میں بڑے پیمانے پر جال پائے گئے۔

عمارتوں کے اندر دھماکہ خیز مواد

جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی عمارتوں کے داخلی راستوں کے ارد گرد دھماکہ خیز مواد رکھا گیا تھا۔ اسرائیلیوں نے جلد ہی سامنے والے دروازے کا استعمال بند کر دیا اور اس کے بجائے گھر کی دیواروں سے اپنے راستے کو دھماکے سے اڑانے کا طریقہ اختیار کیا۔

اسرائیلی فوجیوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ حماس نے صورتحال کے مطابق عمارتوں کے اندر گیس سلنڈر سے لے کر بچوں کے کھلونوں تک دھماکہ خیز مواد کے جال بچھائے۔

کچھ جگہوں پر حماس نے 7 اکتوبر کو حراست میں لیے گئے اسرائیلی قیدیوں کی چیزوں میں دھماکہ خیز مواد رکھ کر اسرائیلی فوجیوں کو پھنسانے کی کوشش کی۔

قیدیوں کی آڈیو ریکارڈنگ

دوسرے معاملات میں حماس نے فوجیوں کو گھات لگانے کی کوشش کرنے کے لیے عبرانی زبان میں مدد کی بھیک مانگنے والے قیدیوں کی آڈیو ریکارڈنگ کا استعمال کیا ہے۔

الأسرى الإسرائيليين الثلاثة
الأسرى الإسرائيليين الثلاثة

متوازی طور پر غزہ میں حماس کے رہ نماؤں نے مصری حکام اور جلاوطن گروپ کے سیاسی ونگ کو بتایا کہ القسام بریگیڈز نے جنگ سے پہلے ایک اندازے کے مطابق 30,000 جنگجوؤں میں سے کم از کم 6,000 افراد کو کھو دیا ہے۔

حماس کے 12 ہزار جنگجو مارے گئے

اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے غزہ میں اب تک تقریباً 12,000 حماس جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے، اس کے علاوہ 7 اکتوبر کو اسرائیل میں ہونے والی لڑائی کے دوران تقریباً 1,000 دیگر جنگجو مارے گئے تھے۔

لیکن امریکی اور مصری انٹیلی جنس حکام کا خیال ہے کہ اصل نقصان اسرائیل اور حماس کے دعووں کے درمیان تقریباً درمیان میں آتا ہے۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ سرنگ شفا ہسپتال کے نیچے سے برآمد ہوئی ہے۔ [اے ایف پی]
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ سرنگ شفا ہسپتال کے نیچے سے برآمد ہوئی ہے۔ [اے ایف پی]

عسکری تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ حماس اپنے باقاعدہ فوجیوں کی جگہ نئے جنگجو بھرتی کر سکتی ہے لیکن تجربہ کار کمانڈروں کی جگہ لینا زیادہ مشکل ہے۔

غزہ میں اب تک اسرائیل کے 242 فوجی ہلاک ہوچکے ہیں اس کے علاوہ 7 اکتوبر کو 300 سے زائد مارے گئے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ غزہ میں شہری جنگ کی تباہ کاریوں کا شکار ہیں، فضائی حملوں اور زمینی فائرنگ سے ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ بیس لاکھ لوگ بے گھر اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں