فلسطین اسرائیل تنازع

اقوامِ متحدہ کی اونروا عملے کے خلاف اسرائیل کے الزامات کی تحقیقات جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے جمعرات کو کہا کہ تفتیش کاروں کو توقع ہے کہ جلد ہی اسرائیل سے اس کے الزامات سے متعلق مواد موصول ہو جائے گا کہ اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی کے عملے نے سات اکتوبر کو حماس کے حملوں میں حصہ لیا تھا۔

یہ الزامات پانچ ہفتے قبل اس وقت منظرِ عام پر آئے جب شرقِ اوسط میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی (اونروا) نے اعلان کیا کہ اسرائیل کی جانب سے ایجنسی کو زبانی طور پر معلومات فراہم کرنے کے بعد اس نے کچھ عملے کو برطرف کر دیا تھا۔ اقوامِ متحدہ نے بعد میں کہا کہ اسرائیل نے عملے کے 12 ارکان پر الزام لگایا تھا جن میں سے نو کو برطرف کر دیا گیا تھا۔

دفتر برائے اندرونی نگرانی خدمات (او آئی او ایس) کی طرف سے اقوامِ متحدہ کی آزاد اور داخلی تحقیقات فوری طور پر شروع کر دی گئیں کیونکہ سب سے بڑے عطیہ دہندہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور دیگر ممالک نے الزامات کے بعد فنڈنگ روک دی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ او آئی او ایس نے بدھ کے روز اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کو گذشتہ ماہ کے دوران اپنے کام سے آگاہ کیا۔ دوجارک نے یہ نہیں بتایا کہ تفتیش کب مکمل ہوگی۔

"تفتیش جاری ہے۔ او آئی او ایس اضافی معلومات کی تلاش اور تصدیق اور حاصل کردہ معلومات کا اسرائیلی حکام کے پاس موجود مواد سے موازنہ کرتا رہے گا جس کے جلد ہی موصول ہونے کی توقع ہے۔"

"اسرائیلی حکام سے معلومات حاصل کرنے کے لیے او آئی او ایس کا عملہ جلد ہی اسرائیل کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جو تحقیقات سے متعلق ہو سکتی ہیں۔" دوجارک نے مزید کہا ممبر ممالک کی جانب سے تحقیقات میں او آئی او ایس سے تعاون اب تک کافی ہے۔

گوٹیرس نے اونروا کو "غزہ میں تمام انسانی امداد کی ریڑھ کی ہڈی" قرار دیا ہے اور عالمی ادارے میں "حماس کی دراندازی" سے متعلق اسرائیل کی طرف سے کسی بھی نئی اطلاع پر فوری کارروائی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

اونروا غزہ میں 13,000 لوگوں کو ملازمت دیتا ہے جو اسکول، اس کے بنیادی صحت کی نگہداشت کے کلینک اور دیگر سماجی خدمات چلاتے اور انسانی امداد تقسیم کرتے ہیں۔ گوٹیرس نے کہا ہے کہ تقریباً 3000 افراد امداد پہنچانے کے لیے بدستور کام کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ایک سینئر امدادی اہلکار نے منگل کو سلامتی کونسل کو بتایا غزہ کی پٹی میں کم از کم 576,000 افراد یعنی آبادی کا ایک چوتھائی قحط سے بس ایک قدم کے فاصلے پر ہیں اور انتباہ دیا کہ کارروائی نہ ہونے کی صورت میں وسیع پیمانے پر قحط "تقریباً ناگزیر" ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں