فلسطین اسرائیل تنازع

عالمی برادری ہلاکتوں کا نوٹس لے کر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے: فلسطینی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ میں فلسطینی اتھارٹی کے سفیر ریاض المنصور نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں خوراک کے لیے جمع ہونےوالے فلسطینیوں میںموت بانٹنے والے اسرائیل کے خلاف کارروائی کرے۔ سفیر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی مذمت کرے ۔

ریاض المنصور نے کہا ' اب سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کو کہہ دے؛ ' بہت ہو گیا' ۔ واضح رہے فلسطینی اتھارٹی کے سفیر کا یہ بیان جمعرات کے روز اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج نے امدادی ٹرک تک پہنچنے والے فلسطینیوں کو فائرنگ کر کے 112 کی تعداد میں ہلاک اور 760 کو زخمی کر دیا۔

اس پر سفیر نے مزید کہا ' اسرائیل کی طرف سے یہ وحشیانہ قتل عام اس بات کی گواہی ہے کہ سلامتی کونسل مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اور جب تک ویٹو کے استعمال کا سلسلہ جاری ہے فلسطینیوں کو ان کی زندگیوں سے اسی طرح محروم کیا جاتا رہے گا۔'

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے پانچ مستقل ارکان ہیں، ان میں سے امریکہ نے سات اکتوبر کے بعد سے اب تک کم از کم تین بار جنگ بندی کی قرار داد کو ویٹو کیا ہے۔ امریکہ کا اسرائیل کے حق میں ویٹو کا استعمال اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی ہونے کے سبب ہے غزہ میں جنگ بندی کا مخالف ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے اقوام متحدہ میں سفیر کا کہنا ہے کہ اس نے بیان جاری کرنے سے پہلے امریکی سفیر برائے اقوام متحدہ لنڈا تھامس گرین فیلڈ سے ملاقات کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل کو چاہیے کہ اپنے پلیٹ فارم سے کوئی ایسی چیز سامنے لائے جس میں ہلاکتوں کے تازہ واقعے کی مذمت کی جائے اور ان کی مذمت کی جائے جو اس قتل عام کے ذمہ دار ہیں۔

اتھارٹی کےسفیر نے بیان میں کہا ' اگر سلامتی کونسل کی ریڑھ کی ہڈی اور کوئی عزم رکھتی ہے تو ہم اس سے کہتے ہیں کہ ہمیں جنگ بندی کی ضرورت ہے۔

خیال رہے سلامتی کونسل کے ارکان نے جمعرات کے روز پیش آنے والے واقعے پر ہی ایک بند کمرے میں کے اجلاس میں اکتھے ہوئے ہیں۔ یہ غیر رسمی تبادلہ خیال الجیریا کی درخواست پر کیا گیا۔

امریکی نائب سفیر رابرٹ ووڈ نے اس غیر رسمی اجلاس میں آتے ہی کہا ' یہ ایک المناک دن تھا۔ ہم سب آج شمالی غزہ میں سو سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت اور بہت سوں کے زخمی ہونے سے بہت پریشان اور غمزدہ ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں