اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی خواتین کے ساتھ کے تشدد، ہراسگی اور زیادتی کے واقعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

دوران جنگ غزہ سے گرفتاری کے بعد کئی ہفتے اور مہینے اسرائیلی جیلوں میں گزارنے والی فلسطینی خواتین کے حوالے سے انکشافات سامنے آئے ہیں کہ انہیں اسرائیلی جیلوں میں جسمانی زیادتی کا بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کے علاج معالجے کو مکمل نظر انداز کر دیا گیا۔

انہی فلسطینی مظلوم خواتین میں سے ایک 39 سالہ نبیلہ ہیں۔ جن کے خیال میں غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد بھی اقوام متحدہ کا سکول بے گھر فلسطینیوں اور ان کی خواتین کے لیے اسرائیلی جیلوں کے مقابلے میں جنت کی طرح تھا۔ مگر جلد ہی اسرائیلی فوج خواتین کو بھی گرفتار کر کے لے گئی۔

اسرائیلی فوجیوں نے پناہ گزین کے لیے سکول میں بنائے گئے کیمپ پر دھاوا بولا اور مردوں کو کپڑے اتارنے کے لیے کہہ دیا جبکہ خواتین کو ایک قریبی مسجد میں لے جا کر ان کی تلاشی لی گئی۔ یوں اسرائیلی حراست کے چھ ہفتوں کا آغاز ہوا۔ نبیلہ کہتی ہیں کہ ان چھ ہفتوں کی حراست کے دوران بار بار کی پوچھ گچھ کے ساتھ مار پیٹ اور تشدد لازمی عنصر رہا۔

ان کے مطابق ' اسرائیلی فوجی بہت درشت اور درشتگی اور بیہودگی سے پیش آنے والے تھے۔ نبیلہ ںامی فلسطینی مظلومہ کا کہنا ہے کہ ان کے نام کا آخری حصہ شائع نہ کیا جائے۔کہ انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا جائے گا۔ نبیلہ کہہ رہی تھیں 'اسرائیلی حراست میں اگر ہم اپنا سر اوپر اٹھاتیں یا کوئی لفظ بولتیں تو وہ ہمارے سروں پر تشدد کرتے تھے۔'

غزہ سے گرفتار کیے گئے فلسطینیوں کو وسیع پیمانے پر اسرائیلی جیلوں میں جسمانی استحصال اور زیادیتوں کا نشانہ بنائے جانے کی شکایات سامنے ائی ہیں۔ نہیں معلوم کہ اس دوران کتنی خواتین اور کم سن بچوں یا بچیوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور کہاں کہاں رکھا گیا ہے۔

نبیلہ کہتی ہیں کہ انہیں ڈیمون جیل میں بند کیے جانے سے پہلے جگہ جگہ گھمایا جاتا رہا ۔ البتہ ڈیمون جیل میں ایک سو کے قریب فلسطینی خواتین کو رکھا گیا تھا۔ یہ جیل اسرائیل کے شمال میں قائم کی گئی ہے۔

انسانی حقوق سے متعلق تنظیمیں فلسطینیوں کو لاپتہ کیے جانے اور انہیں بغیر کسی مقدمے یا الزام کے حراست میں رکھنے کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔ حتیٰ کے ان زیر حراست افراد کے اہل خانہ کو بھی نہیں بتایا گیا کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے، نہ ہی انہیں وکیل کا حق دیا گیا ہے۔ اس کا باوجود اسرائیلی جیل حکام کا دعویٰ ہے کہ قیدیوں کو جو بنیادی حقوق حاصل ہیں ان کا پوری طرح اطلاق کیا جارہا ہے۔

سات اکتوبر سے مسلسل اسرائیلی فوج غزہ میں کارروائیوں میں مصروف ہے۔ خان یونس کے علاقے اسرائیلی فوج نے درجنوں بار اقوام متحدہ کے سکولوں اور ہسپتالوں تک پر چڑھائی کی ہے۔نہ صرف یہ عام فلسطینی ان حملوں میں نشانہ بنائے گئے بلکہ داکٹر اور طبی عملے کے لوگ بھی تشدد و حراست کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔

زیر حراست لیے گئے فلسطینیوں کو لباس سے مکمل محروم کر دیے جانے کا جواز اسرائیلی فوجی یہ پیش کرتے ہیں کہ یہ اس لیے کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے کپڑوں میں کوئی بارودی مواد نہ چھپا رکھا ہو۔ نبیلہ کہتی ہیں 'حراست کے 47 دن بہت خوفناک تھے۔'

جب جنگ شروع ہوئی تو نبیلہ اور ان کے گھر والوں نے غزہ شہر نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ، ان کے خیال میں شمالی غزہ مقابلتاً زیادہ محفوظ ہو سکتا تھا۔ جب اسرائیلی فوج یو این سکول میں داخل ہوئی تو یہ 24 دسمبر کا دن تھا۔ وہ کہتی ہیں' میں خوفزدہ تھی کہ یہ گرفتاری کے بعد ہمیں پھانسی لگا کر کہاں دفن کریں گے۔'

مجھ سے میری 13 سالہ بیٹی اور چار سالہ بیٹے کو الگ کر دیا گیا۔ مجھے ایک ٹرک میں بٹھا کر جنوبی اسرائیل کے لیے روانہ کر دیا گیا۔ اسرائیلی فزیشنز کے ایک گروپ کے مطابق جو انسانی حقوق کے لیے کام کرتا ہے گزہ سے گرفتار کیے گئے تمام فلسطینیوں کو پہلے تیمان فوجی کیمپ لے جاتا رہا ہے۔

نبیلہ جو چھ ہفتوں کی حراست کے بعد اب رفح کے ایک سکول میں قائم کیمپ میں پناہ لیے ہوئے ہیں نے ' اے پی ' سے بات کرتے ہوئے کہا 'سخت سردی میں ہمارا خون جم رہا تھا مگر ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم نے اپنے گھٹنوں کے بل زمین پر جھکے رہنا ہے۔'

نبئلہ کہتی ہیں کہ س دوران اونچی آواز میں میوزکل بجایا جاتا، ہم پر اونچی آوازوں سے چیخا جاتا ، دھمکیاں دی جاتی اور ہر طرح سے ہماری توہین کی جاتی۔' جبکہ ہمارے ہاتھ ہتھکڑیوں سے باندھے ہوئے اور پاؤں میں زنجیریں ڈالی جاتیں، ہماری آنکھوں پر ٌپٹی باندھ دی جاتی۔'

فلسطینی اسیر خاتون کہتی ہیں کہ انہیں کئی مقامات پر جیلوں میں بند کیا گیا اور کئی بار ایسا ہوا کہ بندوقوں کی نوک پر برہنہ کر کےتلاشی لی گئی۔ اس دوران حماس کے تعلق پوچھا جاتا رہا۔ زیر زمین سرنگوں کے بارے میں پوچھا جاتا رہا۔ جبکہ میرا کہنا تھا کہ میں ایک گھریلو خاتون ہوں مجھے ان باتوں کا کچھ پتہ نہیں ہے۔'

انتقامی ہتھیار

غزہ سے گرفتار کی گئی ایک خاتون نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا' جب مجھے ڈیمون جیل میں لایا گیا تو طبی معائنے کے دوران کہا گیا کہ اسرائیلی پرچم کو بوسہ دو۔ جب اس سے میں نے انکار کیا تو اسارئیلی فوجیوں نے مجھے بال نوچے اور چہرے کو دیوار سے دے مارا۔' فزیشنز اف ہیومن رائٹس کی طرف سے بھی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ' اسی طرح کے واقعات باقی گرفتار فلسطینیوں کے ساتھ بھی پیش آتے رہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں