اسرائیل اور حزب اللہ کا تصادم سنگین ہونے سے جنگ کا خطرہ بڑھ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

حالیہ ہفتوں کے دوران لبنان اسرائیل سرحد پر اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے واقعات میں بڑھاوا دیکھنے میں آیا ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیلی فوج کے ڈرون حملوں اور بمباری کے واقعات لبنان کے اندرتک دیکھنے میں آرہے ہیں۔

اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان سات اکتو بر کے بعد سے صورت حال پہلے ہی کشیدہ چلی آرہی ہے مگر لبنانی سرحد کے آندر تک شروع کر دیے گےئے اسرائیلی حملے حاکات کو مزید خطرناکی کی طرف لے جارہے ہیں۔

یہ اگرچہ سہولت موجود ہے کہ ایک طرف اسرائیل لبنان کے ساتھ ساتھ شام و عراق تک حملے کرتا ہے اور دوسری طرف امریکی و مغربی سفارت کار لبنا ن کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے اور خطے کو جنگ کی لپیٹ میں جانے سے روکنے کے لیے لبنانی و علاقائی قیادت سے رابطے میں آجاتے ہیں۔ اس کے باوجود دو طرفہ جنگ کے خطرات گہرے ہو رہے ہیں اور جنگ کا خوف بڑھ رہا ہے۔ یہ صورت حال خطے میں عدم استحکام کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔

اسرائیل کو اس وقت دوہرا کام کرنا پڑ رہا ہے ایک جانب اسے اپنی جنگی قوت اور مضبوطی کو ظاہر کرتے رہنے کے لیے لبنانی سرحد اوراس کے پار تک حملے کرنا ہوتےہیں تاکہ بتا سکے یہ اپنا دفاع کرنے کی اہلیت رکھتا ہے اور دوسری جانب سفارتی سطح پر کوششیں کرنا پڑتی ہیں۔

یہ اپنی جگہ اہم ہے کہ سات اکتوبر کے بعد اسرائیلی سفارتی محاذ کو غیر اعلانیہ طور پر امریکہ نے ہی سنبھالا ہوا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ بلنکن کے چار ماہ کے دوران مشرق وسطیٰ کے پانچ دورے اس کی واضح دلیل ہیں۔ دوسرے بہت سارے امریکی بھی تھوک کے حساب سے خطے کے دورے پر رہے ہیں۔

اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکی کوشش بھی یہی رہی ہے کہ کسی طرں اسرائیل کی شمالی سرحد اس کے لیے خطرناکی اختیار نہ کرے تاکہ اس کے نقل مکانی کرنے والے سرحدی آباد کار واپس گھروں کو جا سکیں ۔ اسرائیل کی سیاسی و جغرافیائی مضبوطی کا تاثر کمزور نہ ہو اور ایک مکمل نیا محاذ نہ کھلے۔

امریکی یونیورسٹی کے استاد زیاد ماجد کا ' العربیہ' سے بات کرتے ہوئے اس بارے میں کہنا ہے ' اسرائیل حزب اللہ کے ٹھکانوں اور درجنوں لبنانی دیہاتوں اور قصبوں پر بمباری کرکے حزب اللہ کو دریائے لیطانی کے شمال کی طرف دھکیلنا بھی چاہتا ہے۔' جبکہ سفارتی حوالے سے اسرائیل ثالثوں کے ذریعے اپنی شرائط سے آگاہ کر رہا ہے، جس کا مقصد بڑے پیمانے پر تصادم سے بچنا ہے لیکن اگرسفارتی چینلز ناکام ہوتے ہیں تو آگے بڑھنے کی تیاری کا بھی اشارہ دے رہا ہے۔'

پچھلے چند مہینوں کے دوران اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک جنگی جواب الجواب کی کیفیت نے ایک خطرناک جنگی اشارہ ہے۔ جس کا بظاہرکوئی حل نظر نہیں آتا۔ بلکہ شدت بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل حال ہی میں فضائی مہم میں تیزی لایا ہے، لبنان میں اس نے اندر تک بمباری کی ہے، جب کہ حزب اللہ کی طرف سے وسیع پیمانے پر راکٹوں اور میزائلوں کا استعمال کیا گیا ہے۔

اسرائیل کا تازہ حملہ پیر کے روز لبنان کی وادی بیکا میں کیا گیا، اس حملے میں حزب اللہ کے کم از کم دو ارکان مارے گئے، گزشتہ اکتوبر میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے ساتھ کشیدگی کے بعد سے لبنانی سرزمین پریہ ایک اور اہم حملہ تھا۔ جبکہ غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل کی جانب سے مشرقی لبنان پر حملہ کرنے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔

حزب اللہ نے اس حملے کا جواب دیتے ہوئےگولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی فوجی اڈے کی طرف 60 کاتیوشا راکٹ داغے گئے۔اسی طرح بعلبک پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں حزب اللہ نے اسرائیلی اڈے پر راکٹ سیلو فائر کیا ہے۔

اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے شہر غازیہ میں دو گوداموں کو نشانہ بنایا، جو قاسرائیلی حدود سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر سیڈون شہر کے قریب واقع ہے۔ اس حملے میں 14 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعی سرکاری میڈیا کے ذریعے ملی ہے۔

سات اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تقریباً 200 لبنانی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ حزب اللہ کے حملوں میں اب تک اسرائیل کے ایک درجن کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی سطح سے سفارتی کوششوں کے باوجود صورتحال اب بھی کشیدہ اور خطرناک ہے۔

امریکہ جسے خطے میں سفارتی کوششوں جنگی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کردار ادا کرنا تھا بحیرہ احمر میں اسرائیل کے لیے ڈھال بنتے ہوئے خود بھی حملوں اور جوابی حملوں کے ماحول میں آچکا ہے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو جنگ کی طرف جانے سے روکنے کے لیے امریکہ نے آموس ہوچیٹین کو مقرر کر رکھا ہے مگر لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ براہ راست رابطہ نہ کرنے کی امریکی پالیسی کی وجہ سے بات چیت پیچیدگی کا شکار ہے۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ایک بڑے چینل ' سی این این' کی تازہ رپورٹ کے مطابق اگر سفارتی کوششیں حزب اللہ کو اسرائیل کے ساتھ شمالی سرحد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی ہیں تو موسم بہار کے آخر میں یا موسم گرما کے شروع میں لبنان پر اسرائیل کے زمینی حملے کے ممکنہ آغاز کے بارے میں خدشات ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر دباؤ بہت زیادہ ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ غزہ میں حماس کے خلاف جنگ ختم ہونے کے بعد وہ اپنا عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

پروفیسر زیاد ماجد کے بقول 'غزہ میں کشیدگی کم ہونے کے بعد اسرائیلی رائے عامہ تیزی سے شمال میں تنازعات کو ناقابل برداشت قرار دیتی ہے تو نیتن یاہو کی حکومت کو فیصلہ کن کارروائی کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا ہو گا۔'

انہوں نے مزید کہا ' اسرائیل کی بار بار کی اشتعال انگیزی پر حزب اللہ کا رد عمل انتہائی اہم ہو گا۔ بظاہر یہ گروپ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے وقتاً فوقتاً نئے ہتھیاروں کی نمائش کرکے فوجی تیاری کا مظاہرہ کرتا ہے، لیکن اس کے اقدامات کا مقصد کشیدگی کو ہوا دینے کے بجائے اپنے عزم کا اظہار کرنا ہے۔'

امریکی یونیورسٹی کے پروفیسر کا یہ بھی خیال ہے کہ اسرائیل نے اپنے حملوں کو لبنان میں مزید گہرائی میں لے جانے کی کوشش کی تو حزب اللہ بھی اسرائیل کے اندر تک مزید اسٹریٹجک مقامات کو شامل کر سکتی ہے۔

واضح رہے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے گزشتہ ماہ اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ اگر اسرائیل حماس کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے بعد بھی لبنان میں حملے جاری رکھے گا تو حزب اللہ اپنے حملے دوبارہ شروع کر دے گی۔ مزید کہا ' ہمارے میزائل اسرائیل کے جنوب میں واقع ایلات تک پہنچ سکتے ہیں۔'

دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے اتوار کے روز کہا تھا کہ اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کے بعد اسرائیل لبنانی سرحد پر حزب اللہ کے خلاف حملے تیز کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں