سعودی عرب میں گردو غبار کے طوفانوں میں کمی کا راز کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں موسمیات کے پروفیسر اور ویدر سوسائٹی کے نائب صدر عبداللہ المسند نے مملکت میں ہر سال آنے والے گردو غبار کے طوفانوں میں کمی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان طوفانوں کو موسم کا بدترین مظہر سمجھا جاتا ہے جو مملکت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہ بات سائنسی مطالعات سے ثابت ہوچکی ہے کہ گردو غبار کے طوفان مزاج، صحت، تعلیم، کام، سیاحت، سفر، تجارت، اور یہاں تک کہ جانوروں اور پودوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

مسند نے "ایکس" پر اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کردہ بیان میں بتایا کہ گردو غبار کے طوفان کے خطرات بہت ہیں۔ ان کے منفی پہلو بھی بہت زیادہ ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ پچھلے تین سالوں میں گردو غبار کے طوفان کم ہی ہوئے ہیں۔ سال 2023 کے دوران ریاض اور مملکت کے علاقوں میں ریت کا طوفان ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ گردو غبار کے طوفانوں میں کمی کے متعدد اسباب ہیں۔

پہلی وجہ

عبداللہ المسند نے کہا کہ مملکت میں گردو غبار میں کمی کا پہلا سبب سعودی ویژن 2030 ہے جس نے قدرتی ریزرو کے پھیلاؤ کو وسعت دے کر ہماری سرزمین میں ماحولیاتی بگاڑ کو دور کرنے میں تیزی لائی، جو اب مملکت کے 14 فی صد رقبے پر محیط ہے۔ان میں سے زیادہ تر شمالی علاقوں اور مشرقی وسطی علاقے کے کچھ حصے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں عام طور پر دھول کے طوفان بنتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان ریزرو نے زیادہ زمین پرموجود درختوں اور پودوں کی کٹائی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔

دوسری وجہ

انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں بارش کے موسموں کا تسلسل ہے جس نے ریزرو مقامات کے اندر اور باہر موسم بہار کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا۔

تیسری وجہ

عبداللہ المسند نے کہا کہ بحیرہ روم کے دباؤ کے ساتھ آنے والی سرد یا گرم ہوائی اس طاقت اور شدت کے ساتھ نہیں آئیں جس کے ہم عادی تھے۔ اس پربھی ہمیں اللہ کا شکر گذار ہونا چاہیے۔

انہوں نے توجہ دلائی کہ گردو غبار کے طوفان ایک قدرتی واقعہ ہے جو دنیا کے کئی حصوں میں رونما ہوتا ہے اور ان کے وقوع پذیر ہونے کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا لیکن حفاظتی اقدامات بشمول محفوظ علاقوں کو پھیلانے اور سعودی گرین انیشیٹو جیسے پروگرامات کے ذریعے ان کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں