مصر کو ساحلی شہر کے منصوبے کےلیےمتحدہ عرب امارات سے 5 بلین ڈالر کی پہلی ادائیگی موصول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مصر کے وزیرِ اعظم ڈاکٹر مصطفیٰ مدبولی نے جمعرات کو اعلان کیا کہ مصر کو راس الحکمہ شہر کی ترقی کے لیے پہلی قسط کے طور پر 5 بلین ڈالر موصول ہو گئے ہیں۔ یہ وصولی متحدہ عرب امارات کے ساتھ سرمایہ کاری میں شراکت کے معاہدے کے تحت ہوئی ہے۔ ملک کو اگلے دن مزید 5 بلین ڈالر کی ادائیگی کی توقع ہے۔

ایک بیان میں مدبولی نے کہا کہ مرکزی بینک اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے 5 بلین ڈالر کو مصری پاؤنڈز میں تبدیل کرنے کے لیے رابطہ ہوا ہے۔ مصر کو اعلان کردہ بقیہ رقم دو ماہ میں وصول ہو گی جس سے اس معاہدے کے تحت ریاست میں داخل ہونے والی 35 بلین ڈالر کی براہِ راست سرمایہ کاری مکمل ہو جائے گی۔ یہ اس منصوبے کے خالص منافع کے 35 فیصد کے علاوہ ہے جو ریاست حاصل کرے گی۔

راس الحکمہ ترقیاتی منصوبے کے لیے خصوصی طور پر وزیرِ اعظم کی سربراہی میں وزارتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اس کا مشن طریقۂ کار کو آسان بنانا، کسی بھی رکاوٹ کو دور کرنا، کوئی بھی مسائل حل کرنا اور اس پروجیکٹ میں اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ کمیٹی کا ایک تکنیکی سیکرٹریٹ ہوگا جس کی سربراہی وزیرِ اعظم کے نائبِ اول، کابینہ کے مشاورتی بورڈ کے سربراہ اور متعلقہ وزارتوں اور ایجنسیوں کے اہلکار کریں گے جو ضروری فیصلوں کی تیاری کے لیے ذمہ دار ہوں گے۔

وزیر اعظم مدبولی نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست کا مقصد اس اہم اور بڑے ترقیاتی منصوبے کی کامیابی اور سرمایہ کاری کی دیگر شراکتوں کی تعمیر کے لیے ایک نمونہ بنانا ہے جس سے مصری عوام کے لیے بہت سے فوائد حاصل ہوں گے۔

راس الحکمہ سرمایہ کاری شراکت

مدبولی نے واضح کیا کہ راس الحکمہ منصوبہ سرمایہ کاری کی ایک شراکت ہے جو حکومت اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کے نظام کے ذریعے عمل میں آنے والے بہت سے منصوبوں کی طرح ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ معاہدے کی کوئی شق مصر کی خودمختاری کو متأثر نہیں کرتی اور تمام شقیں مصری قوانین کے تابع ہیں۔ یہ شرط رکھی گئی تھی کہ معاہدے کی شقوں کی کوئی بھی ایسی تشریح نہیں کی جا سکتی جو مصری قانون سے متصادم ہو۔

اس منصوبے کو اقتصادی اصلاحات کے آغاز کے طور پر نمایاں کرتے ہوئے حکومت سرمایہ کاری کے اخراجات کو معقول بنانے، گورننس کو بڑھانے اور مختلف اقتصادی شعبوں میں نجی شعبے کو وسیع مواقع فراہم کرنے کے لیے اپنے اعلان کردہ اقدامات کو جاری رکھے گی۔

متعلقہ سیاق و سباق میں وزیرِ اعظم نے ذکر کیا کہ سرکاری کاروباری شعبے کے وزیر نے آج اس بات کی تصدیق کی کہ "ہوٹل" کے حالیہ اعلان کردہ سودوں سے 520 ملین ڈالر وزارت میں داخل ہوئے ہیں اور ڈالر کے بقیہ واجبات جلد ہی مل جائیں گے۔

ایک اور حصہ جلد آرہا ہے

وزیرِ اعظم کا یہ اعلان مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مرکزی بینک نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ راس الحکمہ منصوبے کے معاہدے میں اعلان کردہ رقم کا کچھ حصہ وصول کر لیا تھا اوراس کا دوسرا حصہ اگلے جمعہ کو آنا ہے۔

صدر السیسی نے منصوبے کی تفصیلات پیش کرنے اور اعلان کرنے میں حکومت کی ایمانداری اور شفافیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس منصوبے کا دائرۂ کار، رقبہ اور طریقۂ کار بیان کیا جو آئندہ ماہ و سال میں اسے بحیرۂ روم کا سب سے بڑا سیاحتی منصوبہ بنانے والے ہیں۔

یہ منصوبہ سال بھر جاری رہنے والی مختلف سرگرمیوں کے ساتھ ایک عالمی شہر بننے کے لیے تیار ہے جن میں سے چند ایک کو پہلی بار مصر میں متعارف کرایا جائے گا۔ تیز رفتار فیصلہ سازی اور واضح حمایت اور مدد کا ذکر کرتے ہوئے صدر السیسی نے متحدہ عرب امارات اور اس کے صدر شیخ محمد بن زاید کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے گذشتہ چار سالوں کے دوران مصر کی مشکل معاشی صورتِ حال کا بھی ذکر کیا جو عالمی بحرانوں بشمول کووڈ-19 وبائی مرض، روسی تنازعہ اور غزہ میں حالیہ جنگ سے متأثر ہوئی ہے۔

زمین مختص کرنا

متحدہ عرب امارات کے اے ڈی کیو کے ساتھ شراکت میں اس منصوبے کو مصر کی تاریخ میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا معاہدہ سمجھا جاتا ہے۔

مصر کے سرکاری گزٹ نے بھی منگل کو صدر السیسی کا فیصلہ شائع کیا کہ مطروح گورنری میں مسلح افواج کی ملکیتی اراضی سے 170.8 ملین مربع میٹر اراضی راس الحکمہ شہر کے نئے منصوبے میں استعمال کے لیے نیو اربن کمیونٹی اتھارٹی کو مختص کر دی جائے۔

مصر دو ماہ کے اندر متحدہ عرب امارات سے 35 بلین ڈالر وصول کرے گا جس میں 24 بلین ڈالر کے نئے فنڈز اور مصر میں متحدہ عرب امارات کے ذخائر میں 11 بلین ڈالر کی تبدیلی شامل ہے۔ مصر نئے منصوبے کے منافع کا 35 فیصد حصہ اپنے پاس رکھے گا جس کا تخمینہ مختلف مراحل کے دوران 150 بلین ڈالر کی کل سرمایہ کاری کا ہے۔

شمالی ساحل پر واقع راس الحکمہ مارسا مطروح گورنری کا حصہ ہے۔ اس کے ساحل شمالی ساحلی سڑک پر الضبعہ کے علاقے سے 170 کلومیٹر کے فاصلے پر مطروح شہر میں 220 کلومیٹر تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ علاقہ مصر کی قومی شہری ترقی کی حکمتِ عملی میں تزویراتی طور پر اہم اور جامع ترقیاتی اوصاف کا حامل ہے جو اسے ایک سرکردہ سیاحتی، سرمایہ کاری اور شہری علاقہ اور شرقِ اوسط اور دنیا میں ایک عالمی سیاحتی مرکز بناتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں