’اسرائیل کا ایک وزیراعظم ہے‘ بینی گینٹز اور نیتن یاھو کے درمیان اختلاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایسے لگتا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی مشکلات نے انہیں گھیر لیا ہے اور مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔

اسرائیلی حکومت کے اندر پائے جانے والے اختلافات کوئی نئی بات نہیں اور اختلافات کو راز میں رکھنےکے باوجود انہیں لیک کے جانے کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ نیتن یاھو کے قریبی سیاسی اتحادی بھی ان سے نالاں دکھائی دیتے ہیں جس کی تازہ مثال وارکیبنٹ کے رکن بینی گینٹز کا اچانک اور وزیراعظم کو بتائے بغیر امریکہ کا دورہ ہے۔

غزہ پر جنگ کے بارے میں نیتن یاھو کے نقطہ نظر سے امریکا سمیت اسرائیل کے کئی دوسرے اتحادی بھی یاھو سے نا خوش ہیں۔ پانچ ماہ سےجاری غزہ جنگ میں نیتن یاھو اپنے اعلان کردہ اہداف کے حصول میں بری طرح ناکام دکھائی دیتا ہے اور طاقت کے اندھا دھند استعمال سے فلسطینیوں کی بڑھتی ہلاکتوں پر نیتن یاھو کے اتحادی ان سے دور ہو رہے ہیں۔ حماس کے ساتھ غزہ میں قیدیوں کی ڈیل میں ناکامی کی وجہ سے نیتن یاھو پر اندرون ملک سے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حوالے سے ان کا نقطہ نظر بھی 7 اکتوبر سے غزہ میں زیر حراست اسرائیلیوں کے سینکڑوں خاندانوں کو مطمئن نہیں کر سکا۔ قیدیوں کے اہل خانہ نے حالیہ دنوں میں بارہا مظاہرے کیے اور ان پر دباؤ ڈالنا جاری رکھا۔

عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ کی رپورٹ کے مطابق وار کیبنٹ کے رکن بینی گینٹز نے وزیراعظم کی اجازت کے بغیر امریکہ کا دورہ کرنے اور امریکی حکام سے ملاقاتوں کا فیصلہ کیا ہے۔

صرف ایک وزیراعظم

نیتن یاہو کے قریبی لوگوں نے وضاحت کی کہ گینٹز کا واشنگٹن کا دورہ حکومتی ضوابط سے متصادم ہے جس کے لیے کسی بھی وزیر کے سفر کے لیے وزیر اعظم کی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو نے گینٹز کو سمجھایا کہ اسرائیل کا صرف ایک وزیراعظم ہے۔

توقع ہے کہ گینٹز کے واشنگٹن کے دورے کے بعد وہ لندن جائیں گے۔

امریکہ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب تل ابیب اور صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے درمیان تنازعات بڑھ رہے ہیں، جنہوں نے اس ہفتے اسرائیلی حکومت پر سخت تنقید کی خاص طور پر انتہا پسند وزیر اتمار بن گویر کا ذکر کیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نیتن یاہو کی حکومت اپنے موجودہ راستے پر چلتی رہی تو "یہ بین الاقوامی قانونی حیثیت کھو سکتی ہے"۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں اتحادیوں کے درمیان کئی بنیادی مسائل پر نظریات میں اختلافات میں اضافے کے ساتھ واشنگٹن نے نیتن یاہو کے دور سے آگے دیکھنا شروع کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں