عبداللہ الربیعہ کی عراقی جڑواں بچوں کے ساتھ ایک سال بعد تصویر مرکز نگاہ بن گئی

گذشتہ برس عراقی جڑے ہوئے بچوں کو سعودی عرب میں گیارہ گھنٹے کے طویل اور پیچیدہ آپریشن کے بعد علاحدہ کیا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے شاہی دربار کے مشیر اور کنگ سلمان سینٹر فار ریلیف اینڈ ہیومینٹیرین ایڈ کے جنرل سپروائزر ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے شاہ سلمان ریلیف سینٹر کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں انہیں دو عراقی بچوں ’عمر اور علی‘ کو اٹھائے دکھایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ دونوں عراقی بچے ایک سال قبل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سعودی عرب جڑواں حالت میں لائے گئے تھے جہاں ان کا آپریشن کر کے انہیں ایک دوسرے سے الگ کیا گیا تھا۔

یہ تصویر ڈاکٹر توفیق الربیعہ کے نیشنل گارڈ کے زیر اتنظام قائم کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں کنگ عبداللہ سپیشلسٹ ہسپتال برائے اطفال کے دورے کے دوران لی گئی جہاں انہوں نے معائنے کے لیے لائے گئے بچوں عمر اور علی کو اٹھایا اور ان کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

اس موقعے پر ڈاکٹر الربیعہ کو جڑواں بچوں کی صحت کی حالت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ یہ ایک مشکل اور پیچیدہ آپریشن تھا جس میں میں 11 گھنٹے لگے تھے۔

جڑواں بچے سینے اور پیٹ کے نچلے حصے میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ دونوں بچے جگر، پتے کی نالیوں اور آنتوں کو الگ کرنے کے لیے 12 جنوری 2023 کو ایک پیچیدہ سرجیکل آپریشن کیا گیا، جو چھ مراحل میں مکمل ہوا۔ اس آپریشن میں 27 کنسلٹنٹس، ماہرین، نرسنگ اور تکنیکی عملے نے حصہ لیا تھا۔

الربیعہ نے اپنے اور میڈیکل ٹیم کے ساتھی اراکین کی جانب سے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن عبدالعزیز کا شکریہ ادا کیا جن کی فراخ دلانہ توجہ سےسیامی جڑواں بچوں کو الگ کرنے کا آپریشن کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں