فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل نے چھ ہفتوں کے لیے جنگ بندی تقریباً قبول کر لی، اب گیند حماس کی کورٹ میں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے کم و بیش 6 ہفتوں کے لیے جنگ بندی قبول کر لی ہے۔ اب حماس پر انحصار ہے کہ وہ اس کا جواب دیتے ہوئے بہت ہی لاغر اور بیمار یا زخمی یرغمالیوں کی رہائی قبول کر لیتی ہے یا نہیں۔ یہ بات ایک سینئیر اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہفتے کے روز کہی ہے۔

امریکی اہلکار نے مزید کہا' اس وقت گیند حماس کی کورٹ میں ہے۔' دوسری طرف حماس کے ذرائع کا بھی کہنا ہے کہ ہفتے کا دن ان کے حکام کے لیے قاہرہ میں اسی سلسلے میں مصروفیت کا موقع رہا, تاکہ جنگ بندی سے متعلق موصول شدہ تجاویز کا جائزہ لے سکیں۔

امریکی اہلکار نے مذاکرات کے بارے میں کہا ' علاقائی طاقتوں کے مذاکرات کار اس سلسلے میں رات دن ایک کر کے بات چیت کرتے رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان سے پہلے جنگ بندی ممکن ہو جائے۔ توقع ہے کہ جنگ بندی کا تقریباً ایک ہفتے میں آغاز ہو جائے گا۔'

جنگ بندی کے حوالے سے سوال پر امریکی اہلکار نے کہا ' یہ جنگ بندی چھ ہفتوں پر محیط ہو گی، بشرطیکہ حماس اسرائیل کے ان یرغمالیوں کو رہا کرنے پر آمادہ ہو جائے، جن کی حالت اچھی نہیں ہے اور وہ بیمار ہیں یا زخمی حالت میں ہیں، اس لیے ان کی فوری رہائی ضروری ہے۔'

اس امریکی اہلکار کا کہنا تھا' میں یہی چاہتا ہوں کہ حماس اتفاق کرتی ہے تو ہمارے پاس جنگ بندی ہوگی۔' انہوں نے امید ظاہر کی معاہدے کی صورت میں پائیدار امن کی امید پیدا ہوگی اور جنگ بندی کے نتیجے میں امدادی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو سکے گا۔ واضح رہے اقوام متحدہ نے انتباہ کر رکھا ہے کہ شمالی غزہ قحط کی زد میں ہے۔

دوسری جانب ہفتے کی صبح پہلی بار غزہ میں ہوائی جہاز کے ذریعے غزہ میں خوراک کے بیگ پھینکے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے یہ اقدام ایک سو سے زائد فلسطینیوں کی خوراک کے حصول کے دوران ہلاکتوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی اس کارروائی کو ہر طرف سے قابل مذمت کہا جا رہا ہے۔

تاہم امریکی اہلکاروں کا یہ تسلیم کرنا ہے کہ ہوائی جہاز کے ذریعے غزہ میں امداد تقسیم کرنے اقدام کافی نہیں ہو سکتا ، نہ ہی اس طرح کی کارروائی زمینی راستے سے امدادی سرگرمیوں کا متبادل ہو سکتی ہے۔

اب امریکہ نے اندرونی و بیرونی دباو کی وجہ سے اپنی کچھ بھی بحریہ کی مدد سے بھی غزہ میں امدادی سامان کی فراہمی پر غور شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ امریکی حکام سمجھتے ہیں کہ زمینی راستے سے امدادی سامان کی ترسیل کا نعم البدل نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں