اسرائیل کی جنگی کابینہ میں شدید ہنگامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی جنگی کابینہ کے ایک رکن اتوار کے روز واشنگٹن روانہ ہوگئے ہیں۔ تاکہ امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کر سکیں۔ ان کے اس دورے کی وجہ بعد از جنگ صورتحال کے بارے میں امریکی صدر جوبائیڈن اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان نقطہ نظر کا غیرمعمولی اختلاف ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق نیتن یاہو اور ان کی جنگی کابینہ کے درمیان بھی اسی معاملہ میں بہت زیادہ دراڑیں پڑ چکی ہیں۔

جنگی کابینہ کے رکن بینی گانٹز نے نیتن یاہو حکومت کو اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ کے فوری بعد جوائن کیا تھا۔ تاہم اب نیتن یاہو اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان اس امر پر کھلے اختلاف کہ جنگ کے بعد غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے، اسرائیل سے واشنگٹن پہنچ رہے ہیں۔

نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے ایک اہم ذمہ دار نے کہا ہے کہ جنگی کابینہ کے رکن بینی گانٹز کا امریکہ کے دورہ پر جانا اسرائیلی وزیراعظم کی مرضی کے بغیر ہے۔ لیکوڈ پارٹی کے اس ذمہ دار نے کہا 'نیتن یاہو نے جنگی کابینہ کے رکن کے ساتھ بڑی سخت گفتگو کی ہے اور انہیں باور کرایا ہے کہ اسرائیل میں ایک ہی وزیراعظم ہے دو نہیں ہیں۔'

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ بینی گانٹز نے امریکہ جانے سے پہلے نیتن یاہو کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ امریکہ جا رہے ہیں۔ تاکہ امریکہ کے ساتھ اسرائیلی تعلقات کو مزید بڑھاوا دینے میں کردار ادا کریں۔ خصوصاً اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے امریکی مدد کو تیز کرنے کے لیے۔ تاہم نیتن یاہو نے انہیں اجازت نہیں دی تھی۔

معلوم ہوا ہے کہ بینی گانٹز امریکی نائب صدر کمالا ہیرس اور قومی سلامتی کے امریکی مشیر جیک سلیوان سے ملاقات کریں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم یتن یاہو جنگ کے شروع ہونے کے بعد سے مسلسل غیرمقبول ہو رہے ہیں۔ ان کی مقبولیت کا گراف اس وجہ سے نیچے گر رہا ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حماس کے 7 اکتوبر کو حملہ کے ذمہ دار نیتن یاہو ہیں کہ وہ بطور وزیراعظم اس حملہ کو روکنے کے لیے کچھ نہ کر سکے۔

واضح رہے 7 اکتوبر کے حماس کے حملے کے بعد اب تک اسرائیلی فوج نے 30 ہزار 410 فلسطینی قتل کیے ہیں۔ قتل کیے گئے ان فلسطینیوں میں فلسطینی بچوں اور فلسطینی عورتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ جبکہ 23 لاکھ کی آبادی میں سے 80 فیصد فلسطینی آبادی نقل مکانی پر مجبور ہو چکی ہے۔

نیتن یاہو کے ناقدین کہتے ہیں کہ 'نیتن یاہو کے فیصلے ان کے سیاسی مفادات کے تابع ہیں۔ تاہم وہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔ نیتن یاہو پر لگائے جانے والے الزامات میں یہ بھی شامل ہے کہ نیتن یاہو جنگ کے بعد غزہ کو بغیر کسی منصوبے کے چھوڑ رہے ہیں۔

امریکہ چاہتا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام میں پیش رفت ہو اور غزہ میں فلسطینی لیڈرشپ کو نئے سرے سے ترتیب دیا جائے۔ جو بتدریج فلسطینی ریاست پر معاملات کو جا کر منتج کر سکے۔ امریکہ کی اس سوچ کی نیتن یاہو اور ان کے انتہا اپسند ساتھی مخالفت کرتے ہیں۔ جبکہ بینی گانٹز کی پارٹی کے اور رہنما نیتن یاہو کی جنگی پالیسی اور یرغمالیوں کی رہائی کے سلسلے میں یاہو کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہیں۔

نیتن یاہو حکومت اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کی مدد سے قائم ہے۔ جو اسرائیلی تاریخ میں سب سے زیادہ انتہا پسند حکومت مانی جاتی ہے۔ اس حکومت میں عدالت کی طرف سے ملنے والی ڈیڈ لائن پر بھی اختلاف ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ایسا قانون لایا جائے جس میں مذہبی انتہا پسند یہودیوں کو بھی شامل کیا جائے کیونکہ مذہبی انتہا پسند یہودیوں کو یہ چھوٹ حاصل ہے کہ وہ فوج میں شامل نہ ہوں۔

بینی گانٹز کی مقبولیت اسرائیل میں اس وقت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے اور اگر آج الیکشن ہوتے ہیں تو اگلے وزیراعظم بننے کے لیے انہیں کافی زیادہ حمایت مل سکتی ہے۔ انہیں ایک اعتدال پسند سیاسی لیڈر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بینی گیٹز کے امریکی دورے کے دوران اگر یرغمالیوں کی رہائی کے سلسلے میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو اسرائیل میں گینٹز کی حمایت میں مزید اضافہ ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں