فلسطین اسرائیل تنازع

امریکہ کی طرف سے غزہ میں پہلی بار فضا سے امدادی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ نے بھی ہفتے کے روز ہوائی جہاز کے ذریعے غزہ میں امدادی سامان پھینک کر خود کو ان ملکوں میں شامل کر لیا ہے جنہوں نے غزہ میں زمینی راستے سے امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹوں کے سبب ہوائی جہاز سے امداد تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے ۔

امریکہ کی طرف سے یہ فضائی امدادی کارروائی ایسے موقع پر کی گئی ہے جب اسرائیلی فوج نے کم از کم 112 فلسطینیں کو کھانے پینے کی اشیا کے حصول کی کوشش کے دوران ہلاک کر دیا۔ اس بہیمانہ واقعے پر اسرائیل کے ساتھ ساتھ اس کی حامی و اتحادی ممالک کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اس شدید تنقید کے ماحول میں یہ امریکی امدادی کارروائی سامنے آئی ہے۔ اس سے پہلے اردن، برطانیہ اور فرانس کی طرف سے ہوئی جہازوں سے غزہ میں امدادی سامان گرایا جا چکا ہے۔ اقوام متحدہ کےغزہ میں رابطہ دفتر کا کہنا ہے کہ اس وقت کم از کم 576000 فلسطینی قحط زدگی کے قریب ہیں۔

امریکہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے غزہ میں یہ امدادی سامان سی 130 طیاروں کے ذریعے پھینکی ہے۔ ٹرانسپورٹ طیاروں کے ذریعے غزہ کے لوگوں کے لیے 38000 کھانے پھینکے گئے۔ وائٹ ہاؤس کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ہوائی جہازوں کے ذریعے امدادی سرگرمی جاری رہے گی ، نیز اسرائیل نے بھی اس کوشش کی حمایت کی ہے۔'

معلوم ہوا ہے کہ اندرونی و بیرونی دباؤ کے ماحول میں امریکی بحریہ بحر ممتوسط سے امدادی سرگرمیوں کی کوشش شروع کرے گی۔ تاہم امریکی حکام سمجھتے ہیں کہ یہ سب سرگرمیاں زمینی راستے سے امدادی کارروائیوں کا متبادل نہیں ہو سکتی ہیں۔

امدادی سرگرمیوں سے متعلق ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ یہ ایک نہایت مہنگا طریقہ ہونے کے باوجود ایک محدود سطح کی کوشش ہو سکتی ہے۔ نیز یہ غزہ کے لوگوں کے لیے بہت ہی ناکافی ہے۔ ہوائی جہازوں سے امدادی سامان گرانے پر تنقید کرنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے امداد جنگجووں کے ہاتھ لگنے کو بھی نہیں روکا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ اس کا فائدہ بہت معمولی ہو گا۔

واضح رہے غزہ میں جنگ شروع ہونے سے پہلے ہر روز 500 ٹرک امدادی سامان لے غزہ آتے تھے۔ ماہ جنوری کے دوران یہ تعداد 150 ٹرکوں تک رہی جبکہ ماہ فروری کے دوران غزہ کے 23 لاکھ بے گھر لوگوں کے لیے یومیہ بنیادوں پر 97 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان آتا رہا۔

اسرائیل نے اس دوران رفح کی راہداری کو بھی بند کیے رکھا ہے ، جبکہ کریم شالوم کی راہداری سی سے امدادی سامان سے بھرے ٹرکوں کو آنے کی کسی قدر اجازت دی۔ مگر کریم شالوم سے داخل ہونے والے امدادی ٹرکوں کو اسرائیلی احتجاجی کارکن روک دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں