سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ہوٹل عارضی طور پر کیوں بند ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کل ’لیپ تکنیکی کانفرنس‘ کی میزبانی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اسی کانفرنس کے انعقاد کے موقعے پر گذشتہ ہفتے سے دارالحکومت میں ہوٹلوں اور رہائش کی سہولیات میں ہوٹل کے کمروں کے کرائے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سے کچھ کا کرایہ ایک لاکھ ریال تک پہنچ گیا تھا۔

دارالحکومت میں ہوٹلوں پر بکنگ بند ہونے کی ایک وجہ یہ کانفرنس بھی ہے جس میں دنیا بھر سے لوگ شرکت کے لیے آ رہےہیں۔

کمروں کے کرائے میں اضافے کی وجوہات تکنیکی کانفرنس میں بین الاقوامی حاضری کی شدت کو قرار دیا گیا ہے، جہاں بکنگ کی شرح 100 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ جب کہ ایک دن کے لیے ہوٹل کی ریزرویشن سائٹس پر کچھ جگہوں کے کرائے 11,000 سے 15,000 ریال تک پہنچ گئے ہیں۔

ریاض کے ہوٹلوں کے کرائےمیں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سعودی دارالحکومت کو ہوٹلوں کے اضافی منصوبوں کی ضرورت ہے۔

کرائے کی سطح

امام یونیورسٹی میں فنانس اور سرمایہ کاری کے پروفیسر ڈاکٹر محمد مکنی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے سرکاری حکام سے کرایوں کی سطح پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اس جگہ کی رہائش کے لیے ان کی درجہ بندی کی ضرورت پر زوردیا تاکہ دوسرے ممالک کے دارالحکومتوں میں ہوٹلوں کے کرایوں کے ساتھ تناسب قائم کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی اب بھی اشد ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی رہائشی سہولیات کو بڑھایا جا سکے اور ہوٹل دنیا بھر کے ممالک سے ریاض آنے والے افراد اور کمپنیوں کوجگہ دے سکیں۔ سعودی عرب میں انسانی سونامی آنے والا ہے۔ سیاحت، سرمایہ کاری یا رہائش کے لیے دنیا بھر سے لوگوں کا رحجان بڑھ رہا ہے اور ہوٹلوں اور ان کے کمروں کی تعداد کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں ریاض شہر میں تیزی سے بڑھنے والی مختلف سرگرمیوں کے حجم کے ساتھ متوازی طور پر ترقی کی ضرورت ہے۔ یہ شعبہ دیگر سرگرمیوں کو بڑھانے اور اقتصادی سرگرمیوں کی شرح بڑھانے میں مدد دینے کے لیے بہت اہم ہے۔ ریاض سیزن، تعطیلات اورسالانہ نمائشوں جیسے مختلف مواقع پر ریاض میں ہوٹلوں کےکمروں کی بکنگ بڑھ جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں